Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران سے معاہدے کی جلدی نہیں، ناکہ بندی برقرار رہے گی: صدر ٹرمپ

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدے کی کوئی جلدی نہیں ہے اور آبنائے ہرمز کے قریب امریکہ کی ناکہ بندی برقرار رہے گی۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنگ کے خاتمے کی امید کے ساتھ اس پر تنقید بھی بڑھ رہی ہے۔ 
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اتوار کو انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر لکھا کہ ’مذاکرات مںظم اور تعمیری انداز میں بڑھ رہے ہیں اور میں نے اپنے نمائندوں سے کہا ہے کہ جلد بازی نہ کریں کیونکہ وقت ہمارے حق میں ہے۔‘
انہوں نے یہ بھی واضح کہا کہ ’ناکہ بندی مکمل طور پر برقرار رہے گی اور تب تک نافذ رہے گی جب تک کوئی معاہدہ نہیں پا جاتا اور اس پر دستخط نہیں ہو جاتے۔‘
امریکہ نے 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے جبکہ اس سے قبل امریکہ و ایران کے حملوں کے بعد ایران نے اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا جس سے تیل کی تجارت میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں اور عالمی معیشت بھی متاثر ہوئی تھی۔
امریکی صدر نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی لکھا کہ ’فریقین کو وقت لینا چاہیے اور معاملات کو بہتر طور درست طریقے سے طے کرنا چاہیے۔‘
صدر ٹرمپ نے 2015 میں ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے پر تنقید بھی کی جو کہ صدر باراک اوبامہ کے دور میں ہوا تھا۔
’ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات زیادہ نتیجہ خیز اور پیشہ ورانہ بنتے جا رہے ہیں تاہم انہیں یہ سمجھنا ہو گا کہ وہ جوہری ہتھیار یا بم نہ تو تیار کر سکتے ہیں اور نہ ہی حاصل کر سکتے ہیں۔‘
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس پوسٹ سے قبل اتوار کو ہی امریکی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ امریکہ اور ایران مشرقِ وسطیٰ کی جنگ ختم کرنے کے لیے ممکنہ طور پر معاہدے پر پہنچ سکتے ہیں، جبکہ تہران نے واضح کیا ہے کہ اس معاہدے سے اس کے جوہری پروگرام پر کوئی پابندی عائد نہیں ہوگی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اتوار کے روز انڈیا کے دورے کے دوران امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:’یرے خیال میں آئندہ چند گھنٹوں میں دنیا کو کوئی اچھی خبر ملنے کا امکان ہے۔‘
دوسریجانب ایران کی فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن نے اس بات پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ بین الاقوامی پابندیوں کے تحت بیرون ملک منجمد کیے گئے ایران کے کچھ فنڈز جاری کیے جائیں گے جبکہ ایرانی بندرگاہوں کی طرف آنے والے جہازوں پر نافذ ناکہ بندی بھی ختم کی جائے گی۔
 رپورٹ میں کے مطابق ’اس کے بدلے میں آبنائے ہرمز پر ٹریفک جنگ سے پہلے کے وقت پر بحال ہو جائے گی اور وہ ایران کے زیرانتظام ہو گی۔‘

شیئر: