سعودی عرب سمیت عرب اور مسلم ملکوں کے وزرائے خارجہ نے اتوار کو ایک بیان میں ایک اسرائیلی انتہا پسند وزیر کی جانب سے غزہ فوٹیلا کے کارکنوں کی قابل نفرت، ذلت آمیز اور ناقابل قبول اقدامات کی سخت مذمت کی ہے۔
سعودی عرب، اردن، متحدہ عرب امارات، قطر، انڈونیشیا، پاکستان،مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ ’اسرائیلی وزیر بن گویر کی جانب سے زیر حراست افراد کی جان بوجھ کر تذلیل کرنا انسانی وقار پر ایک شرمناک حملہ اور بین الاقوامی قوانین کے تحت اسرائیلی ذمہ داریوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔‘
وزرائے خارجہ نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں فلسطینیوں کے خلاف بن گویر اور دیگر اسرائیلی حکام کی جانب سے کیے جانے والے غیر قانونی اور انتہا پسندانہ اشتعال انگیزی اور تشدد کی بھی سخت مذمت کی۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ بن گویر کے اشتعال انگیز اقدامات، نفرت اور انتہا پسندی کو ہوا دیتے ہیں اور دو ریاستی حل پر مبنی منصفانہ اور پائیدار امن کے قیام کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے بن گویر کو اس کے رویے پر جوابدہ ٹہرانے کے ساتھ مسلسل اشتعال انگیزی، نفرت انگیزی اور خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات پر زور دیا۔
بیان میں کہا گیا کہ تمام زیرِحراست افراد کے انسانی حقوق اور وقار کے تحفظ کے ساتھ انسانی سلوک کو یقینی بنانے، مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بین الاقوامی قانون کے مکمل احترام کی ضمانت دیے جانے کی ضرورت ہے۔