Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

تین دن اور دو راتیں: ماضی میں کچے راستوں سے قصیم کے شہریوں کا طویل سفرِ حج

کئی دنوں کے سفر کے بعد ناقابل فراموش یادیں لے کو لوٹتے تھے ( فوٹو: ایس پی اے)
اہل قصیم نے نصف صدی قبل سفرِ حج کی یادیں تازہ کی ہیں، جب  شہروں اور دیہات کے درمیان کچے صحرائی راستوں پر ٹرکوں اور بڑی گاڑیوں کے ذریعے سفر کیا جاتا تھا۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق مقدس مقامات تک کا یہ سفر صبر، یکجہتی اور سادہ زندگی کا مشترکہ تجربہ ہوتا تھا۔
سفر حج کا آغاز کئی دن پہلے مٹی سے بنے مکانات میں اس کی تیاریوں سے ہوا کرتا تھا۔ تمام اہل خانہ سفر میں استعمال کے لیے زاد راہ جمع کرتے، ان میں پانی، قہوہ، کھجور اور کھانا پکانے کا سامان شامل ہوتا۔
یہ سامان پرانی پک اپ گاڑیوں کی چھتوں پر باندھ دیا جاتا، کئی دنوں پر محیط یہ سفر گرد و غبار اور شدید گرمی کے درمیان طے کیا جاتا تھا۔
عبداللہ السلامہ نے ایس پی اے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’ماضی کا سفرِ حج ایسا نہیں تھا جیسا اب ہے۔ علاقے کے لوگ حج کے لیے ایک بڑے ٹرک یا بس میں سفر کرتے تھے، کم از کم 27 افراد کا قافلہ ہوا کرتا تھا۔‘ 

 ڈرائیور بھی ایک سے زیادہ ہوتے تھے، تاکہ ایک آرام کرے تو دوسرا گاڑی چلائے۔ قصیم سے یہ سفر تین دن اور دو راتوں کا ہوا کرتا تھا۔
راستے میں صحرائی سٹاپس پر رکتے اور آگ جلا کر کھانا وغیرہ تیار کرتے، جبکہ قافلے میں شامل لوگ بڑے بزرگوں کو گھیر کر بیٹھ جاتے اور ان سے ماضی کے قصے سنا کرتے تھے۔
یہ ایک ایسا منظر تھا جو اس دور کی سادہ زندگی اور اجتماعی یکجہتی کی روح کو نمایاں کرتا تھا۔

عبداللہ السلامہ نے بتایا کہ ان دنوں پیاس اور راستے کی ناہمواری سب سے بڑا چیلنج تھا، پانی کے مشکیزے گاڑیوں کے عقب میں لاد دیے جاتے۔ ریت کی آندھی میں انتہائی مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑتا تھا، گھنٹوں تک قافلہ رکا رہتا تھا۔‘
انہوں نے مزید کہا ’جوں جوں مشاعر مقدسہ سے قریب ہوتے لوگوں کے احساسات خوشی میں بدلتے جاتے۔ وہ آشکبار آنکھوں کے ساتھ مل کر تلبیہ پڑھتے۔ تکبیرات کی صدائیں صحرا کے قلب میں گونجتی تھیں۔‘
کئی دنوں کے سفر کے بعد اپنے خاندانوں کے پاس اپنے ساتھ ناقابل فراموش یادیں اور نسل در نسل منتقل ہونے والی کہا نیاں لے کر لوٹتے تھے۔

 

شیئر: