Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اوپیک پلس کا ورچوئل اجلاس، تیل کی مارکیٹ کی حالیہ صورتحال اور ضروریات کا جائزہ

اجلاس میں مارکیٹ کے استحکام کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے ( فوٹو: اخبار 24)
اوپیک پلس کے آٹھ رکن ملکوں جس میں سعودی عرب شامل ہے، نے ورچوئل اجلاس میں تیل کی عالمی مارکیٹ کی تازہ ترین صورتحال اور مستقبل کی ضروریات کا جائزہ لیا ہے۔
ایس پی اے کے مطابق رکن ملکوں سعودی عرب، روس، عراق، متحدہ عرب امارات، کویت، قازقستان، الجزائز اور عمان نے اجلاس میں مارکیٹ کے استحکام کے عزم کا اعادہ اور مئی 2026 کے لیے 2 لاکھ 6 ہزار بیرل پیداوار ایڈجسٹمنٹ کو لاگو کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ ایڈجسٹنٹ اپریل 2023 میں اعلان کردہ 16 لاکھ  50 ہزار بیرل یومیہ کی اضافہ رضاکارانہ کٹوتیوں کا حصہ ہے۔
 بیان میں کہا گیا کہ 16 لاکھ 50  ہزار بیرل یومیہ کی کٹوتیوں کو مارکیٹ کی صورتحال کے مطابق بتدریج جزوی یا مکمل طورپر واپس بھی کیا جاسکتا ہے، جبکہ تیل کی مارکیٹ کی مسلسل نگرانی اور جائزہ لیا جاتا رہے گا۔
اوپیک پلس کے رکن ملکوں کا کہنا تھا کہ’ وہ محتاط حکمت عملی اپناتے ہوئے مکمل لچک برقرار رکھیں گے تاکہ ضرورت پڑنے پر پیداوار میں اضافہ، کمی یا سابقہ فیصلوں کو ریورس کیا جا سکے۔ نومبر 2023 میں اعلان کردہ 22 لاکھ بیرل یومیہ کی اضافہ رضاکارانہ ایڈجسٹمنٹ شامل ہے۔‘
ورچوئل اجلاس میں بین الاقوامی سمندری گزرگاہوں کے تحفظ کی اہمیت پرزور دیا گیا، تاکہ توانائی کی ترسیل بلا تعطل جاری رہ سکے۔

 توانائی کے بنیادی ڈھانچے پرحملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’متاثرہ تنصیبات کی بحالی ایک مہنگا اور وقت طلب عمل ہے جو سپلائی کو متاثر کرسکتا ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ’ توانائی کی سپلائی کے تحفظ کو نقصان پہنچانے والے اقدامات خواہ بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا ہوں یا سمندری گزرگاہوں میں رکاوٹ پیدا کرنا، اس عمل سے مارکیٹ میں عدم استحکام بڑھے گا۔‘
اوپیک پلس رکن ممالک نے شراکت دار ممالک کی کاوشوں کو سراہا، جنہوں نے متبادل برآمدی راستے اختیار کرکے سپلائی کو برقرار رکھا اور مارکیٹ کے اتار چڑھاو کو کم کرنے میں مدد دی۔
اجلاس میں اس بات کا بھی فیصلہ کیا گیا کہ تیل کی منڈی کی صورتحال، معاہدوں پر عمل درآمد اور تلافی کے منصوبوں کا جائزہ لینے کے لیے ماہانہ بنیادوں پر اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔  آئندہ اجلاس 3 مئی 2026 کو بلایا گیا ہے۔

 

شیئر: