حج کے دنوں میں ہیلتھ کیئر کا نظام عازمین کی خدمت کے لیے مکمل طور پر تیار
حج کے دوران یہ کمپنیاں نقل و حمل میں ریڑھ کی ہڈی کا کام کرتی ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
مملکت میں ہیلتھ کیئر کا نظام حج کے لیے تیار ہے اور آج کل یعنی حج کے موقع پر سال کے وہ دن ہیں جب یہ طبی نظام شدید ترین آزمائشوں کا سامنا کر رہا ہوتا ہے۔
میڈیکل کی ٹیمیں ہوں یا ادویات، امراض سے بچنے اور امراض سے نمٹنے کے لیے ہر طرح کا انتظام پوری تیاری کے ساتھ موجود ہے۔ مشاعرِ مقدسہ کی زیارت کے دوران شدید گرمی کی وجہ سے عازمین کی بیماری سے نمٹنے اور انہیں فوری طبی امداد دینے کے لیے ٹیمیں ہمہ وقت تیار ہیں۔
ادویات فراہم کرنے والی کمپنیاں ’نیشنل یونیفائڈ پروکیورمنٹ کو‘ جو مملکت کے پبلک انوسٹمنٹ فنڈ‘ کی ملکیت ہیں، سنہ 2009 سے ادویات کے حصول کے طریقوں کو بہتر اور آسان بنانے میں کوشاں ہیں۔
حج کے دوران یہ کمپنیاں نقل و حمل میں ریڑھ کی ہڈی کا کام کرتی ہیں جس میں بالخصوص مشاعرِ مقدسہ میں ہیلتھ کیئر کے لیے ادویات کی سپلائی کے آپریشن کو بھر پور تعاون فراہم کرنا بھی شامل ہے۔ اس سے ڈاکٹر اور طبی نگہداشت کے دیگر پرفیشنل کسی بھی ہنگامی حالت یا حجاج کی کسی طبی ضرورت سے فوری طور پر، محفوظ انداز میں اور مؤثر طریقے سے نمٹ سکتے ہیں۔
عرب نیوز سےبات کرتے ہوئے حج آپریشن کے لیے کی جانے والے اِن مربوط کوششوں کے بارے میں جو پسِ پردہ رہتی ہیں، کمپنی کے سی او او فہد البتی نے بتایا کہ ان کا ادارہ وزارتِ صحت سے بہت قریبی رابطے میں ہوتا ہے۔ ہم پہلے ہی سے ضروریات کی تعین کر لیتے ہیں، فارماسیوٹیکل کمپنیاں، لیبارٹریاں، دوائیں اور میڈیکل کے اوزار و آلات بھی تیار ہوتے ہیں جنہیں مشاعرِ مقدسہ میں اہم مقامات کے قریب رکھ دیا جاتا ہے۔
’جب حج کے دنوں کا آغاز ہوتا ہے تو ہم حقیقی وقت میں کام کر رہے ہوتے ہیں اور دواؤں اور دیگر طبی آلات کی مسلسل نگرانی اور گنتی ہو رہی ہوتی ہے۔‘

اس کے علاوہ دواؤں کو موسم کی شدت سے بچانے کے لیے اُن کی ٹرانسپورٹیشن کے بندوبست اور ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے بالخصوص مشاعر مقدسہ کے قرب و جوار میں مسلسل تیاری ہو رہی ہوتی ہے۔
اس برس کمپنی طبی نگہداشت کی 127 سہولتوں کے ساتھ کام کر رہی ہے جبکہ فیلڈ میں اسے 129 ماہرین پر مبنی ٹیم کی خدمات حاصل ہیں۔ کمپنی کے لیے کسی بھی صورتِ حال کا مقابلہ بہتر انداز میں کرنے کے لیے 61 ٹرانسپورٹ ٹرک اور تین موبائل ویئر ہاؤسز بھی فراہم کیے گئے ہیں۔
کمپنی اِن تمام چیزوں کے علاوہ ڈیجیٹل نگرانی کی ٹیکنالوجیوں سے بھی مستفید ہو رہی ہے۔ ڈیجیٹل سہولتوں کے باعث طبی نگہداشت کی ٹیمیں فاصلے پر رہتے ہوئے بھی مریض کی حالت کا اندازہ لگا سکتی ہیں۔ ’ورچوئل کیئر سائن کِٹس‘ کی مدد سے ٹیمیں دُور رہ کر بھی مریضوں کا بلڈ پریشر، نبض کی رفتار، جسم کا درجۂ حرارت، گلوکوز کی مقدار اور ای سی جی چیک کر سکتی ہیں کیونکہ یہ تمام آلات مرکزی نظام سے منسلک ہیں۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ حجاج کو ہجوم میں خصوصاً طواف اور سعی کے دوران ماسک پہننے سے فائدہ ہو سکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اگر کوئی حاجی سانس لینے میں دقت محسوس کرے، اُسے زیادہ پسینہ آئے، سر چکرانے لگے، پٹھوں میں اکڑاؤ محسوس ہو تو فوری طبی امداد کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اگر حاجی میں یہ علامتیں پائی جائیں تو اُسے فوراً سایہ دار جگہ یا سرد مقام کی طرف چلے جانا چاہے اور جسم کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
ایسی حالت میں گرنے کا انتظار نہ کریں بلکہ فوری مدد طلب کریں۔ عبادت کے دوران صحت کو ترجیح دینا بھی ضروری ہے۔ خوب پانی پیئں، جتنا ممکن ہو دھوپ سے بچیں اور اگر آپ کو دوائیں تجویز کی گئی ہیں تو ان کا استعمال کریں۔
