امریکہ کے نئے حملے، ایران کا جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام
امریکہ کے نئے حملے، ایران کا جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام
منگل 26 مئی 2026 7:22
حملوں سے کچھ دیر قبل صدر ٹرمپ نے ٹروتھ پر ایک پوسٹ میں کارروائی کا اشارہ دیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
ایران نے منگل کو امریکہ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے، جب امریکی فوج نے ایران کے جنوبی حصے میں مختلف اہداف پر حملے کیے، بارودی سرنگیں بچھانے اور میزائل چلانے کے لیے استعمال ہونے والی کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ان کارروائیوں کو امریکی فوج نے دفاعی کارروائیاں قرار دیا ہے۔
یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب تین ماہ قبل شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے فریقین میں مذاکرات چل رہے ہیں اور ایران کے وزیر خارجہ اور اعلٰی مذاکرات کار قطر میں ہیں اور وہاں بھی جنگ کے خاتمے کے ممکنہ معاہدے کے لیے مذاکرات ہو رہے تھے۔
اس دورے کے حوالے سے بریفنگ حاصل کرنے والے ایک سرکاری عہدیدار نے پیر کو بتایا تھا کہ وہ قطر کے وزیراعظم کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے ممکنہ معاہدے کے حوالے سے بات چیت کر رہے ہیں۔
اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے انڈیا کے دورے کے موقع پر نئی دہلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ کسی اور طریقے سے نمٹنے کے بارے میں غور کرنے سے قبل سفارت کاری کی کامیابی کے لیے ہر موقع فراہم کیا جائے گا۔
پیر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک طویل پوسٹ میں ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’ایران کے ساتھ بات چیت اچھے طور‘ سے ہو رہی ہے تاہم ناکامی کی صورت میں نئے حملوں کی دھمکی بھی دی۔
یو ایس سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ حملے ’دفاعی اقدام‘ کے طور پر کیے گئے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
انہوں نے لکھا کہ ’یہ سب کے لیے ایک عظیم ڈیل ہو گی یا پھر کوئی ڈیل نہیں ہو گی۔‘
اس کے چند گھنٹے بعد یو ایس سینٹرل کمانڈ کی جانب سے ایک بیان میں بتایا گیا کہ فوج نے ایران پر نئے حملے کیے ہیں۔
بیان کے مطابق ’یہ حملے ایرانی فورسز کی جانب سے ہمارے فوجیوں کو لاحق خطرات سے بچانے کے لیے کیے گئے ہیں۔‘
سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز کا کہنا تھا کہ ’امریکی سینٹرل کمانڈ جاری جنگ بندی کے پیش نظر تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے فوجیوں کا دفاع کر رہی ہے۔‘
اسی طرح پیر کو ایران کے حکام نے کہا کہ ملک کے فضائی دفاعی نظام نے ’دشمن‘ کے ایک سٹیلتھ ڈرون کو مار گرایا، تاہم ایران کے خبر رساں اداروں کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹس میں یہ تفصیل نہیں بتائی گئی کہ یہ ڈرون کہاں سے آیا تھا۔
خبر رساں ایجنسی فارس نے شناخت ظاہر نہ کرنے والے عہدیداروں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ’یہ ہماری طرف سے اس امر کی علامت ہے کہ مزید کوئی سٹیلتھ ڈرون خلیج عرب کے آسمانوں پر نہیں آ سکتا۔‘
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ پر حملے تیز کیے جائیں گے (فوٹو: اے ایف پی)
دوسری جانب خطے میں کشیدگی بڑھنے کا ایک اور اشارہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے یہ کہتے ہوئے دیا گیا ہے کہ لبنان میں ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ ملیشیا کے خلاف حملے تیز کیے جائیں گے۔
اس کے فوراً بعد اس کی فوج نے کہا کہ لبنان کی مشرقی وادی بیکا اور دیگر علاقوں میں حزب اللہ کے انفراسٹرکچرز پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں اپنے دفاع کے لیے ہیں اور وہ جنگ بندی کا فریق نہیں تھا۔
ایرانی حکام کے دوحہ کے دورے سے متعلق معلومات رکھنے والے سرکاری عہدیدار نے روئٹرز کو بتایا کہ سیشن میں بات چیت ایران کے یورینیم کے انتہائی افزودہ ذخیرے اور آبنائے ہرمز کے معاملات پر مرکوز رہی۔
ایران کے حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے فضائی دفاعی نظام نے ’دشمن‘ کے ایک سٹیلتھ ڈرون کو مار گرایا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
اس دورے میں ایران کے سینٹرل بینک کے گورنر بھی شامل ہیں تاکہ ایران کے منجمد شدہ فنڈز کے ممکنہ اجرا پر بھی بات ہو سکے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس سے قبل کہا تھا کہ جوہری معاملات پر بات چیت معاہدے کے فریم ورک پر اتفاق رائے طے پا جانے کے بعد ہو گی۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ کہتے ہیں اس جنگ کا مقصد ایران کو کلیدی مقصد ایران کو یورینیم کی افزودگی اور جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا ہے جبکہ ایران مسلسل تردید کرتا رہا ہے۔
اس کا کہنا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔