Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان سے فضائی آپریشن چند دن سے زیادہ متاثر کیوں ہو رہا ہے؟

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کی وجہ سے پاکستان میں پہلے سے مشکلات سے دوچار ایئر لائنز کو اب ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات کی وجہ سے بھی اپنے فلائٹ آپریشنز کو محددو کرنا پڑ رہا ہے۔ 
منگل کو بھی پاکستان کے مختلف ایئر پورٹس سے پروازوں کی منسوخی اور تاخیر کا سلسلہ جاری ہے۔
پاکستان ایئر پورٹ اتھارٹی کے مطابق کراچی سے ایک بین الاقوامی پرواز منسوخ کی گئی، جبکہ پشاور سے چھ پروازیں اور سیالکوٹ سے چار پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔
ان پروازوں کے منسوخ ہونے سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، خاص طور پر وہ افراد جو بیرون ملک ملازمت، کاروبار یا دیگر وجوہات کی بنا پر سفر کر رہے تھے۔
فضائی آپریشن کیوں متاثر ہو رہا ہے؟
ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال نے بین الاقوامی پروازوں کے روٹس کو براہ راست متاثر کیا ہے۔
کئی ایئرلائنز کو اپنے روٹس تبدیل کرنے پڑ رہے ہیں، جس سے نہ صرف پروازوں کا دورانیہ بڑھ رہا ہے بلکہ آپریشنل اخراجات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
اس کے نتیجے میں بعض پروازیں منسوخ کرنا یا محدود کرنا ناگزیر ہو گیا ہے، خصوصاً وہ روٹس جو خلیجی ممالک یا یورپ کے لیے ہیں۔
ایئر پورٹس پر صورتحال
جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ، باچا خان انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے سفر کرنے والے مسافر پریشانی کا شکار ہیں جبکہ کئی مسافروں نے شکایت کی کہ انہیں بروقت اطلاع نہیں دی گئی۔
ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی پرواز سے قبل ایئرلائن سے تصدیق ضرور کریں، کیونکہ صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔
پی آئی اے کا آپریشن محدود

پی آئی اے کے مطابق  ایئر لائن کے لیے موجودہ حالات میں آپریشنز جاری رکھنا مالی طور پر ناممکن ہو گیا ہے: فائل فوٹو اے ایف پی

دوسری جانب پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے بھی موجودہ حالات کے پیش نظر اپنے بین الاقوامی آپریشنز محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ترجمان پی آئی اے عبداللہ خان نے اردو نیوز کو بتایا کہ فضائی ایندھن (جیٹ فیول) کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے ایئرلائن کے مالی دباؤ میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جس کے باعث سخت فیصلے ناگزیر ہو گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ بیجنگ اور کوالالمپور کے لیے پروازیں بالترتیب 11 اور 14 اپریل سے معطل کر دی جائیں گی۔
اسی طرح خلیجی ممالک (متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے علاوہ) کے لیے پروازیں اپریل کے آخر تک بند رہیں گی، جبکہ متحدہ عرب امارات کے لیے پروازیں محدود کر کے ہفتہ وار 16 کر دی جائیں گی۔
ترجمان کے مطابق یہ فیصلے جیٹ فیول کی قیمتوں میں چوتھی بار اضافے کے بعد کیے گئے ہیں۔
بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتیں: ایک بڑا مسئلہ
ایوی ایشن انڈسٹری میں ایندھن کی قیمتیں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ حالیہ مہینوں میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے نے ایئرلائنز کے اخراجات میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
پی آئی اے کے مطابق ایندھن کی قیمتوں کا تمام بوجھ مسافروں پر منتقل نہیں کیا جا سکتا، اس لیے آپریشنل سطح پر سخت فیصلے کرنا پڑ رہے ہیں۔
پروازوں کی معطلی کے ساتھ ساتھ پی آئی اے نے طلبہ، بینک ملازمین، بزرگ شہریوں، صحافیوں اور ریٹائرڈ فوجی اہلکاروں کو ملنے والی تمام رعایتیں بھی ختم کر دی ہیں۔ اب صرف بچوں اور نوزائیدہ بچوں کو ہی ٹکٹوں میں رعایت مل سکے گی۔
مسافروں کو درپیش مشکلات

پروازوں کے منسوخ ہونے سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے: فائل فوٹو اے ایف پی

پروازوں کی منسوخی اور محدود آپریشن کے باعث مسافروں کو کئی مسائل کا سامنا ہے جن میں فلائٹ ری شیڈول کرنے میں تاخیر، اضافی اخراجات، بیرونِ ملک ملازمتوں پر اثرات شامل ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ خاص طور پر خلیجی ممالک جانے والے محنت کش طبقے کے لیے یہ صورتحال پریشان کن ہے، کیونکہ ان کی ملازمتیں وقت کی پابندی سے جڑی ہوتی ہیں۔
ایوی ایشن سیکٹر پر مجموعی اثرات
سینئر صحافی طارق ابوالحسن کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید خراب ہوتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی ایوی ایشن انڈسٹری پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
جن میں ٹکٹ کی قیمت میں اضافہ، سفر کے دورانیے میں اضافہ اور ایئرلائنز کے مالی نقصانات سمیت دیگر عوامل شامل ہیں۔
کیا بہتری کی کوئی امید ہے؟
پی آئی اے اور دیگر ایوی ایشن حکام کو امید ہے کہ اگر عالمی سطح پر حالات بہتر ہوتے ہیں اور ایندھن کی قیمتیں مستحکم ہو جاتی ہیں، تو متاثرہ روٹس کو دوبارہ بحال کیا جا سکتا ہے۔
پی آئی اے کے ترجمان کے مطابق امید ہے کہ بین الاقوامی سطح پر قیمتیں جلد معمول پر آ جائیں گی، جس کے بعد تمام معطل روٹس بحال کر دیے جائیں گے۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی سیاسی اور معاشی حالات کس طرح مقامی سطح پر عام شہریوں کی زندگیوں کو متاثر کرتے ہیں۔
کراچی، پشاور اور سیالکوٹ سے پروازوں کی منسوخی محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ ایک بڑے عالمی بحران کی جھلک ہے۔
جب تک مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال میں استحکام نہیں آتا اور ایندھن کی قیمتیں کم نہیں ہوتیں، تب تک فضائی سفر میں اس قسم کی رکاوٹیں جاری رہنے کا خدشہ موجود ہے۔ ایسے میں مسافروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ پیشگی منصوبہ بندی کریں اور اپنی پروازوں کے حوالے سے مسلسل معلومات حاصل کرتے رہیں۔
 

شیئر: