Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران جنگ سے فلائیٹس متاثر: پاکستان سے 20 سے زائد بین الاقوامی پروازیں منسوخ

ہوا بازی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث کئی ممالک نے اپنی فضائی حدود جزوی یا مکمل طور پر بند کر دی ہیں. (فوٹو: اے ایف پی)
مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کے باعث پاکستان میں بین الاقوامی فضائی آپریشنز ایک ماہ بعد بھی مکمل طور پر بحال نہ ہو سکے۔ 31 مارچ کو بھی پاکستان سے بیرونِ ممالک جانے والی 20 سے زائد پروازیں منسوخ یا معطل کر دی گئیں۔
یہ صورتحال مقامی انتظامی مسائل کا نتیجہ نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری غیر یقینی حالات کا براہِ راست اثر ہے، جس نے عالمی فضائی ٹریفک کو شدید متاثر کیا ہے۔ مختلف ایئر لائنز نے حفاظتی خدشات، فضائی حدود کی بندش اور آپریشنل رکاوٹوں کے باعث اپنی پروازوں میں رد و بدل کیا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان سے سفر کرنے والے ہزاروں مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق متاثرہ پروازوں میں خلیجی ممالک، خاص طور پر متحدہ عرب امارات، قطر اور کویت سمیت دیگر ممالک جانے والی پروازیں شامل ہیں۔
ان ممالک کے ساتھ پاکستان کا فضائی رابطہ نہ صرف سیاحت بلکہ روزگار اور کاروبار کے حوالے سے بھی انتہائی اہم ہے۔ بڑی تعداد میں پاکستانی شہری ان ممالک میں ملازمت کرتے ہیں، اور عیدالفطر سے قبل ان کی آمد و رفت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ایسے میں پروازوں کی منسوخی نے نہ صرف مسافروں کے سفری منصوبے متاثر کیے بلکہ ایئرپورٹس پر بھی غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ٹریول ایجنٹس کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ٹکٹوں کی ری شیڈولنگ اور ریفنڈز کا عمل بھی سست روی کا شکار ہے، جس سے عوام کی پریشانی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
دوسری جانب ہوا بازی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث کئی ممالک نے اپنی فضائی حدود جزوی یا مکمل طور پر بند کر دی ہیں یا متبادل روٹس اختیار کیے جا رہے ہیں۔ سینئر صحافی راجہ کامران کے مطابق موجودہ صورتحال میں پروازوں کے دورانیے اور اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ ایئر لائنز نے عارضی طور پر اپنی پروازیں معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مسافروں اور عملے کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

ٹریول ایجنٹس کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ٹکٹوں کی ری شیڈولنگ اور ریفنڈز کا عمل بھی سست روی کا شکار ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

تاہم اس مشکل صورتحال میں کچھ مثبت پیش رفت بھی سامنے آئی ہے۔ کویت کی الجزیرہ ایئر لائن نے پاکستان کے لیے اپنی پروازوں کا سلسلہ دوبارہ بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایئر لائن کے مطابق لاہور کے لیے پروازوں کی بحالی کے بعد اب 3 اپریل سے اسلام آباد اور 7 اپریل سے کراچی کے لیے بھی پروازیں دوبارہ شروع کی جا رہی ہیں۔ یہ فیصلہ ان مسافروں کے لیے خوش آئند ہے جو گزشتہ دنوں سے سفری رکاوٹوں کا سامنا کر رہے تھے۔
ایئر لائن حکام نے مزید بتایا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر ایک متبادل سفری حکمتِ عملی بھی اختیار کی گئی ہے۔ کویت سے مسافروں کو بسوں کے ذریعے سعودی عرب کے شہر دمام منتقل کیا جا رہا ہے، جہاں سے انہیں پاکستان کے لیے پروازوں کے ذریعے روانہ کیا جا رہا ہے۔ اس انتظام کا مقصد یہ ہے کہ فضائی حدود کی پابندیوں کے باوجود مسافروں کو ان کی منزل تک پہنچایا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق اگر مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال مزید خراب ہوتی ہے تو آنے والے دنوں میں فضائی آپریشنز پر اس کے اثرات برقرار رہ سکتے ہیں۔ اس لیے مسافروں کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ وہ سفر سے قبل اپنی پروازوں کی صورتحال ضرور چیک کریں اور ایئر لائنز سے مسلسل رابطے میں رہیں۔ حکومت اور متعلقہ ادارے بھی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور کوشش کی جا رہی ہے کہ عوام کو کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو موجودہ فضائی بحران نے نہ صرف بین الاقوامی سفر کو متاثر کیا ہے بلکہ اس کے معاشی اور سماجی اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ایسے میں فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ فضائی نظام کو بحال رکھا جا سکے اور مسافروں کا اعتماد برقرار رہے۔

شیئر: