Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فضائی آپریشن تاحال متاثر، یورپ جانے والے پاکستانی مسافر کیا کریں؟

مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتِ حال کے باعث پاکستان سے فضائی آپریشن کی مشکلات جاری ہیں اور جمعے کو مزید پروازیں منسوخ ہو گئی ہیں۔
پاکستان کے مختلف ایئر پورٹس سے مزید پروازوں کی منسوخی کے بعد مشرق وسطیٰ کے علاوہ یورپ، امریکہ اور دیگر ممالک جانے والے مسافروں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔
کراچی سے 9 ، لاہور سے 2، اسلام آباد سے 3، پشاور سے 5، سیالکوٹ سے 3، فیصل آباد سے ایک جبکہ ملتان سے 3 پروازیں منسوخ ہوئیں، جس کے نتیجے میں سینکڑوں مسافر سفر نہیں کر سکے۔
یہ صورتحال رواں ماہ کے آغاز سے مسلسل برقرار ہے، جس میں سب سے زیادہ متاثر وہ مسافر ہیں جو خلیجی ممالک، یورپ اور امریکہ کے لیے سفر کر رہے ہیں۔

خلیجی ممالک کیوں اہم ہیں؟

پاکستان سے یورپ، امریکہ، افریقہ اور دیگر طویل فاصلے کے مقامات کے لیے سفر کرنے والے مسافروں کا زیادہ تر انحصار خلیجی ممالک پر ہوتا ہے۔ دبئی، دوحہ، ابوظہبی اور استنبول جیسے شہر گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستانی مسافروں کے لیے اہم ٹرانزٹ حب کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق پاکستان سے براہ راست یورپ یا امریکہ جانے والی پروازیں محدود ہیں، اس لیے زیادہ تر مسافروں کو کنیکٹنگ فلائٹس کے ذریعے سفر کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب خلیجی فضائی حدود متاثر ہوتی ہیں تو اس کا اثر براہ راست پاکستانی مسافروں پر پڑتا ہے۔
مزید برآں، امریکہ سمیت کئی ممالک نے امیگریشن کے ابتدائی مراحل بھی انہی خلیجی ایئرپورٹس پر منتقل کر رکھے ہیں، تاکہ مسافروں کو اپنی منزل پر پہنچ کر کم وقت لگے۔ اس سہولت نے خلیجی ممالک کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔
موجودہ بحران میں مسافروں کے لیے مشکلات

سب سے زیادہ متاثر وہ مسافر ہیں جو خلیجی ممالک، یورپ اور امریکہ کے لیے سفر کر رہے ہیں: فوٹو اسلام آباد ایئر پورٹ

موجودہ صورتحال میں جب کچھ خلیجی روٹس متاثر یا محدود ہو چکے ہیں، مسافروں کو متعدد مسائل کا سامنا ہے۔
کراچی سے ایمسٹرڈیم سفر کرنے والے ایک مسافر نے اردو نیوز کو بتایا کہ انہوں نے یورپ کے لیے ٹکٹ خریدا تھا، لیکن ان کی کنیکٹنگ فلائٹ منسوخ ہوگئی۔ اب انہیں بتایا جا رہا ہے کہ اگلی دستیاب فلائٹ کئی دن بعد ہے۔
ایسے مسافروں کو نہ صرف تاخیر بلکہ اضافی اخراجات کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جن میں ہوٹل قیام، نئی ٹکٹوں کی خریداری اور دیگر سفری اخراجات شامل ہیں۔
متبادل راستے، کیا آپشنز موجود ہیں؟
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق موجودہ بحران میں مسافروں کے پاس چند محدود متبادل راستے موجود ہیں، لیکن یہ بھی آسان نہیں۔
کچھ ایئرلائنز اب خلیجی ممالک کے بجائے وسطی ایشیا، ترکی یا دیگر یورپی روٹس کے ذریعے پروازیں آپریٹ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ تاہم ان روٹس پر نشستوں کی تعداد محدود ہے، جس کے باعث ہر مسافر کو فوری سہولت میسر نہیں۔
اسی طرح بعض مسافروں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی سفری تاریخ میں تبدیلی کریں یا کم رش والے دنوں کا انتخاب کریں، مگر یہ آپشن ہر کسی کے لیے ممکن نہیں، خاص طور پر ان افراد کے لیے جنہیں فوری طور پر کسی کانفرنس، کاروباری میٹنگ یا تعلیمی مقصد کے لیے سفر کرنا ہو۔
مہنگے ٹکٹ، سب سے بڑا مسئلہ
موجودہ بحران میں سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو ٹکٹوں کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہے۔
ٹریول ایجنٹس کے مطابق جیسے ہی پروازوں کی تعداد کم ہوتی ہے اور طلب بڑھتی ہے، کرایوں میں تیزی سے اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس وقت یورپ جانے والے ٹکٹوں کی قیمتیں دوگنی بلکہ بعض صورتوں میں تین گنا تک ہو چکی ہیں۔
کراچی کے ایک ٹریول ایجنٹ حسان ناصر نے بتایا کہ جو ٹکٹ پہلے دو سے ڈھائی لاکھ روپے میں ملتا تھا، اب وہ تین سے ساڑھے تین لاکھ یا اس سے بھی زیادہ میں فروخت ہو رہا ہے۔ یہ صورتحال خاص طور پر طلبہ، مزدوروں اور متوسط طبقے کے لیے انتہائی مشکل ہے، جو پہلے ہی محدود وسائل کے ساتھ بیرون ملک سفر کرتے ہیں۔
ایندھن، محدود پروازیں اور بڑھتی طلب

پاکستان سے یورپ، امریکہ، افریقہ اور دیگر طویل فاصلے کے مقامات کے لیے سفر کرنے والے مسافروں کا زیادہ تر انحصار خلیجی ممالک پر ہوتا ہے: فوٹو اے ایف پی 

ٹکٹوں کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں بھی ہیں۔ عالمی سطح پر جیٹ فیول مہنگا ہونے سے ایئرلائنز کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ پروازوں کی محدود دستیابی اور گرمیوں کے سیزن کے آغاز نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس وقت بڑی تعداد میں پاکستانی بیرون ملک سفر کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس سے طلب میں اضافہ ہوا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے ہفتوں میں کرایوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
کاروبار، تعلیم اور سیاحت پر اثرات
یہ بحران صرف مسافروں تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات وسیع پیمانے پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
بین الاقوامی کانفرنسز، تجارتی نمائشیں اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں کیونکہ پاکستانی وفود بروقت شرکت نہیں کر پا رہے۔ اسی طرح طلبہ کو بھی مشکلات کا سامنا ہے، خاص طور پر وہ جو یورپ یا امریکہ میں تعلیمی سیشن شروع ہونے سے پہلے پہنچنا چاہتے ہیں۔
سیاحت کا شعبہ بھی اس صورتحال سے متاثر ہو رہا ہے، کیونکہ غیر یقینی حالات میں لوگ اپنے سفری منصوبے ملتوی کر دیتے ہیں۔
سفر سے قبل اپنی فلائٹ کی صورتحال کی تصدیق کریں
ایوی ایشن حکام مسافروں کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ سفر سے قبل اپنی فلائٹ کی صورتحال کی تصدیق کریں، متبادل آپشنز پر غور کریں اور ممکن ہو تو گنجائش کے ساتھ سفری منصوبہ بندی کریں۔
اس کے علاوہ ٹریول انشورنس اور ریفنڈ پالیسیوں کو سمجھنا بھی اہم ہے، تاکہ اچانک منسوخی کی صورت میں مالی نقصان کم سے کم ہو۔
موجودہ بحران نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ پاکستان کا بین الاقوامی فضائی سفر بڑی حد تک خلیجی ممالک پر انحصار کرتا ہے۔ جب یہ روٹس متاثر ہوتے ہیں تو اس کا براہ راست اثر لاکھوں مسافروں پر پڑتا ہے۔
فی الحال، یورپ اور امریکہ جانے والے پاکستانی مسافروں کے لیے سفر ممکن تو ہے، مگر زیادہ مہنگا، زیادہ طویل اور پہلے سے کہیں زیادہ غیر یقینی ہو چکا ہے۔
 

شیئر: