مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث پروازوں کا شیڈول متاثر، جعل ساز متحرک، مسافروں کو لُوٹنے لگے
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث پروازوں کا شیڈول متاثر، جعل ساز متحرک، مسافروں کو لُوٹنے لگے
بدھ 1 اپریل 2026 4:57
صالح سفیر عباسی -اردو نیوز، اسلام آباد
آج کل جعل ساز پی آئی اے کے لوگو اور نام کا سہارا لے کر شہریوں کو جعلی پیغامات بھیج رہے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی شہری آمنہ عمر (فرضی نام) بیرونِ ملک سفر کے لیے مختلف ایئرلائنز کے ٹکٹوں کی قیمتوں کا جائزہ لے رہی تھیں۔
اسی دوران انہیں واٹس ایپ پر پی آئی اے کے لوگو والے نمبر سے ایک پیغام اور ایک فائل موصول ہوئی اور بتایا گیا کہ انہیں انٹرنیشنل فلائٹ کے لیے خصوصی رعایتی آفر دی جا رہی ہے۔
انہوں نے فائل ڈاؤن لوڈ کرنے کے بعد اسے کھولا تو ان کا موبائل فون ہیکرز کے کنٹرول میں چلا گیا جس کے بعد اُن کے ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے 7 ہزار روپے سے زیادہ کی رقم نکال لی گئی۔
ان دنوں مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتِ حال کے باعث نہ صرف پروازوں کا شیڈول متاثر ہو رہا ہے بلکہ مسافروں کو ٹکٹ حاصل کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ اس صورتِ حال کا فائدہ اٹھانے کے لیے سکیمرز بھی متحرک ہو گئے ہیں۔
یہ جعل ساز مختلف ایئرلائنز اور بالخصوص پی آئی اے کے لوگو اور نام کا سہارا لے کر شہریوں کو جعلی پیغامات بھیج رہے ہیں۔
ان پیغامات میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ انہیں انٹرنیشنل فلائٹس کے لیے منتخب کیا گیا ہے یا خصوصی رعایت دی جا رہی ہے، یوں مسافر جعل سازوں کے جھانسے میں آجاتے ہیں اور فراڈ کا شکار ہو جاتے ہیں۔
اسلام آباد کی آمنہ عمر کی طرح متعدد دیگر شہری بھی اسی طریقے سے دھوکہ دہی کا شکار ہو رہے ہیں۔
اُردو نیوز نے اس معاملے پر جب پی آئی اے کے ترجمان سے رابطہ قائم کیا تو انہوں نے واضح کیا کہ ’ادارہ مسافروں کو اس نوعیت کی فون کالز یا پیغامات کے ذریعے نہ آفرز دیتا ہے اور نہ ہی ذاتی معلومات طلب کرتا ہے۔‘
انہوں نے شہریوں کو تاکید کی کہ ’وہ صرف پی آئی اے کی مستند ویب سائٹس اور مجاز ذرائع پر ہی اعتماد کریں۔‘ سائبر جعل ساز مسافروں کو ہی کیوں ہدف بنا رہے ہیں؟
اس سائبر فراڈ کے طریقۂ کار کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ہم نے سائبر سکیورٹی کے ماہر محمد اسد الرحمان سے بات کی۔
سستے ٹکٹ کے نام پر اسلام آباد کی رہائشی خاتون کے ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے 7 ہزار روپے نکوا لیے گئے (فائل فوٹو: پَکسابے)
ان کا کہنا تھا کہ ’سائبر جرائم میں ملوث عناصر حالات اور مواقع کے مطابق اپنے حربے تبدیل کرتے رہتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد کو نشانہ بنایا جا سکے۔‘
اسد الرحمان نے وضاحت کی کہ ’اس نوعیت کے کیسز میں ہیکرز متاثرہ فرد کو کال یا میسج کر کے یہ تاثر دیتے ہیں کہ انہوں نے کسی ڈسکاؤنٹڈ ٹکٹ کے لیے درخواست دی تھی اور اب انہیں خصوصی آفر دی جا رہی ہے، جس کے حصول کے لیے انہیں ایک مخصوص ایپلی کیشن انسٹال کر کے اس میں اپنی معلومات درج کرنا ہوں گی۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’متاثرہ شہری جیسے ہی یہ ایپلی کیشن انسٹال کرتا ہے تو وہ درحقیقت ایک اے پی کی فائل ہوتی ہے، جس کے ذریعے ہیکر خفیہ طور پر موبائل تک مکمل رسائی حاصل کر لیتا ہے اور اسے اپنی مرضی کے مطابق استعمال کر سکتا ہے۔‘
اسد الرحمان نے خبردار کیا کہ ’اگر کسی صارف کے موبائل کا کنٹرول ہیکر کے ہاتھ میں چلا جائے تو یہ صرف مالی نقصان تک محدود نہیں رہتا، بلکہ موبائل میں موجود ذاتی معلومات، تصاویر، پیغامات اور دیگر حساس ڈیٹا بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے۔‘
اسد الرحمان کا کہنا تھا کہ ’مسافر ہمیشہ ٹکٹ خریدنے کے لیے متعلقہ ایئرلائن کے مستند اور سرکاری طریقۂ کار پر عمل کریں اور کسی نامعلوم لنک، فائل یا ایپلی کیشن کو ڈاؤن لوڈ کرنے یا اپنی ذاتی معلومات فراہم کرنے سے ہر صورت گریز کریں۔‘