امریکہ ایران ’مجوزہ امن معاہدے‘ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں اور کیا نہیں جاتے؟
امریکہ ایران ’مجوزہ امن معاہدے‘ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں اور کیا نہیں جاتے؟
پیر 25 مئی 2026 17:23
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ تعلقات زیادہ پیشہ ورانہ اور مثبت سمت جا رہے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک ممکنہ معاہدہ سامنے آتا دکھائی دے رہا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس معاہدے کے بیشتر نکات پر بات چیت مکمل ہو چکی ہے۔
خبر رساں ایجنسی ’اے پی‘ کے مطابق تاحال یہ واضح نہیں کہ یہ معاہدہ کب اور کس طریقے سے حتمی شکل اختیار کرے گا، تاہم مشرق وسطیٰ کے دو علاقائی حکام اور ایک امریکی عہدیدار کے مطابق مذاکرات حساس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
امریکی صدر نے یہ بیان اپنے علاقائی اتحادیوں، خصوصاً اسرائیل کے ساتھ ٹیلیفونک رابطوں کے بعد دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ 12 ہفتوں سے جاری جنگ، جس کا آغاز امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے ہوا تھا، اب ممکنہ اختتام کی جانب بڑھ رہی ہے۔
ان حملوں میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت ایران کے اعلیٰ حکام نشانہ بنے تھے۔
ایران مسلسل اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ کسی بھی معاہدے کا بنیادی نکتہ خطے میں تمام محاذوں پر جنگ بندی ہونا چاہیے، جس میں لبنان بھی شامل ہے جہاں ایرانی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ اسرائیل کے خلاف برسرپیکار رہی۔
اطلاعات کے مطابق مجوزہ معاہدے میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کے ساتھ ساتھ خطے کے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کی شق بھی شامل ہے۔ یہ شق ایران کے ان اتحادی گروہوں کی جانب اشارہ سمجھی جا رہی ہے جن میں یمن کے حوثی باغی، غزہ میں حماس اور عراق کے شیعہ مسلح گروپ شامل ہیں۔
آبنائے ہرمز مرحلہ وار کھولنے کی تجویز
ایران کے جوابی اقدامات کے بعد آبنائے ہرمز کی بندش عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنی، کیونکہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔
اے پی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ’مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو مرحلہ وار کھولا جائے گا، جبکہ امریکہ ایران کی بندرگاہوں پر عائد بحری پابندیاں نرم کرے گا۔ ان پابندیوں کے باعث ایران کی تیل برآمدات شدید متاثر ہوئی تھیں۔‘
حکام کے مطابق ’امریکہ ایران کو پابندیوں میں نرمی کے تحت تیل فروخت کرنے کی محدود اجازت دے سکتا ہے، جبکہ ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی اور دیگر اقتصادی معاملات پر آئندہ 60 روز کے دوران مذاکرات جاری رہیں گے۔‘
ایران کے جوابی اقدامات کے بعد آبنائے ہرمز کی بندش عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنی (فائل فوٹو: اے ایف پی)
افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے دستبرداری
معاہدے کا سب سے اہم نکتہ ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے متعلق بتایا جا رہا ہے۔
اے پی کے ذرائع کے مطابق ’ایران اس ذخیرے کو ختم کرنے یا کسی تیسرے ملک منتقل کرنے پر آمادگی ظاہر کر سکتا ہے۔‘
ایک عہدیدار کے مطابق ’یورینیم کا کچھ حصہ کم افزودگی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے جبکہ باقی ذخیرہ ممکنہ طور پر روس منتقل کیا جائے گا۔‘ روس اس حوالے سے پہلے ہی آمادگی ظاہر کر چکا ہے۔
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے مطابق ایران کے پاس تقریباً 440.9 کلوگرام یورینیم موجود ہے جو 60 فیصد تک افزودہ ہے، جبکہ ہتھیار بنانے کے لیے 90 فیصد افزودگی درکار ہوتی ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ ’ایران دنیا کو یقین دلانے کے لیے تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنا چاہتا۔‘
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ ’ایران کے ساتھ تعلقات زیادہ پیشہ ورانہ اور مثبت سمت میں جا رہے ہیں، تاہم ایران کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ کسی بھی صورت جوہری ہتھیار یا بم تیار نہیں کر سکتا۔‘
معاہدے میں کیا شامل نہیں؟
اب تک سامنے آنے والی تفصیلات میں ایران کے میزائل پروگرام کا واضح ذکر موجود نہیں، حالانکہ اسرائیل اسے ایران کی سب سے بڑی عسکری طاقت قرار دیتا رہا ہے۔
اسی طرح ایران میں حکومت کی تبدیلی یا امریکی افواج کے خطے سے انخلا جیسے معاملات بھی مجوزہ معاہدے کا حصہ دکھائی نہیں دیتے۔ جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کے ازالے یا معاوضے سے متعلق بھی کوئی بات سامنے نہیں آئی۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ معاہدہ کامیاب ہو جاتا ہے تو نہ صرف مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی ترسیل اور خطے کے سیکیورٹی نظام پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔