امریکی نیوز چینل سی بی ایس نیوز نے اںتیلی جنس معلومات رکھنے والے امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے رہبرِ اعلٰی مجتبیٰ خامنہ ای ایک ایسے نامعلوم مقام سے کام کر رہے ہیں جہاں تک بیرونی دنیا کی رسائی محدود ہے۔
اسی خبر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’مجتبیٰ خامنہ ای کوریئرز کے نیٹ ورک پر انحصار کر رہے ہیں کیونکہ ایرانی قیادت پر مزید ٹارگٹ حملوں کا خدشہ ہے۔‘
اتوار کو نشر کی گئی اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایرانی قیادت کے اندر ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں درپیش مسائل ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات میں ایک بڑی رکاوٹ بن گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ’جن ایرانی حکام کو امریکہ کے ساتھ بات چیت کا اختیار دیا گیا ہے انہیں بھی اپنے سسٹم کے اندر رہتے ہوئے بھی مشکلات پیش آرہی ہیں۔‘
’آپریشن ایپک فیوری کے دوران امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران کی قیادت نے انتہائی سخت حفاظتی اقدامات اپنائے ہیں۔‘