ایرانی قیادت پر مزید حملوں کا خدشہ، رہبرِ اعلٰی مجتبیٰ خامنہ ای کے براہِ راست رابطے منقطع
رپورٹ کے مطابق ’اعلٰی ایرانی حکام بھی یہ نہیں جانتے کہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کہاں مقیم ہیں‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
امریکی ٹی وی چینل ’سی بی ایس نیوز‘ نے انٹیلی جنس معلومات رکھنے والے امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایران کے رہبرِ اعلٰی مجتبیٰ خامنہ ای ایک ایسے نامعلوم مقام سے کام کر رہے ہیں جہاں تک بیرونی دنیا کی رسائی محدود ہے۔‘
اسی خبر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’مجتبیٰ خامنہ ای کوریئرز کے نیٹ ورک پر انحصار کر رہے ہیں کیونکہ ایرانی قیادت پر مزید ٹارگٹ حملوں کا خدشہ ہے۔‘
اتوار کو نشر کی گئی اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایرانی قیادت کے اندر ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں درپیش مسائل ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات میں ایک بڑی رکاوٹ بن گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ’جن ایرانی حکام کو امریکہ کے ساتھ بات چیت کا اختیار دیا گیا ہے انہیں بھی اپنے سسٹم کے اندر رہتے ہوئے بھی مشکلات پیش آرہی ہیں۔‘
’آپریشن ایپک فیوری کے دوران امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران کی قیادت نے انتہائی سخت حفاظتی اقدامات اپنائے ہیں۔‘
اب زیادہ تر اعلٰی ایرانی عہدیداروں کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ زیرِزمین قلعہ نما بنکروں میں ہفتے گزارتے ہیں، براہِ راست رابطے سے گریز کرتے ہیں اور جب تک ضروری نہ ہو الیکٹرانک ڈیوائسز کا استعمال نہیں کرتے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اعلٰی ایرانی حکام بھی یہ نہیں جانتے کہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کہاں مقیم ہیں اور نہ ہی وہ اُن کے ساتھ براہِ راست رابطہ رکھتے ہیں۔
’پیغامات قابل اعتماد کوریئرز کے ذریعے بھیجے جاتے ہیں جو خاص طور پر مجتبیٰ خامنہ کی موجودگی کے مقام کو مبہم رکھنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔‘
یاد رہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای رواں برس 8 مارچ کو ایران کے سپریم لیڈر منتخب ہوئے تھے اور وہ اس وقت سے تاحال عوامی سطح پر کہیں نظر نہیں آئے۔
ایران کے رہبرِ اعلٰی کا عہدہ 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے سپریم لیڈ آیت اللہ خامنہ ای کی موت سے خالی ہوا تھا۔
