Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران سے معاہدہ اب بھی ہو سکتا ہے: روبیو، ٹرمپ نے امیدیں دُھندلا دیں

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’ایران کے ساتھ معاہدے کی کوئی جلدی نہیں۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کا معاہدہ پیر کو حتمی شکل اختیار کر سکتا ہے، تاہم دوسری جانب صدر ٹرمپ نے توقعات کو ماند کر دیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکہ اور ایران آٹھ اپریل سے جنگ بندی پر عمل پیرا ہیں جبکہ ثالثی کرانے والے ممالک بات چیت کو کسی ممکنہ حل کی طرف لے جانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
تاہم اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھا ہوا ہے جبکہ امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی بھی جاری ہے۔
مارکو روبیو جو آج کل انڈیا کے دورے پر ہیں، نے دارالحکومت نئی دہلی میں صحافیوں سے گفتگو میں ممکنہ معاہدے کے حوالے سے کہا کہ ’ہمیں لگتا تھا کہ شاید پچھلی رات کچھ پیش رفت ہو جائے یا پھر آج بھی ہو سکتی ہے تاہم میں اس سے بہت زیادہ توقعات وابستہ نہیں کروں گا۔‘
ان کے مطابق ’میرے خیال میں ہمارے پاس ایک مضبوط تجویز موجود ہے خصوصاً بحری آمد و رفت کی بحالی اور آبی گزرگاہوں کو کھولنے سے متعلق۔‘
امریکی وزیر خارجہ اور صدر کے بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جبکہ ایک جانب صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’انہیں ایران کے ساتھ معاہدے کی کوئی جلدی نہیں اور انہوں نے مذاکرات کو اس ضمن میں ہدایات بھی دی ہیں۔‘
دوسری جانب واشنگٹن اور ایران نے معاہدے کی طرف پیش قدمی کے اشارے بھی دیے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو ٹروتھ پر پوسٹ میں لکھا کہ ’میں نے اپنے نمائندوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے جلد بازی نہ کریں کیونکہ وقت ہمارے حق میں ہے۔‘
انہوں نے یہ بھی واضح کہا کہ ’ناکہ بندی مکمل طور پر برقرار رہے گی اور تب تک نافذ رہے گی جب تک کوئی معاہدہ طے نہیں پا جاتا اور اس پر دستخط نہیں ہو جاتے۔
اس سے قبل امریکی صدر نے کہا کہ زیادہ تر معاہدہ طے پا چکا ہے بس حتمی اعلان ہونا باقی ہے۔
دوسری جانب ایران کی نیوز ایجنسی تسنیم نیوز نے اتوار کے روز بتایا کہ ممکنہ معاہدے کی کچھ شقیں اب بھی طے نہیں ہوئیں اور ان میں منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ بھی شامل ہے۔
28 فروری کو امریکہ و اسرائیل کے ایران پر حملوں سے چھڑنے والی جنگ نے مشرق وسطیٰ تک پھیلنے میں زیادہ وقت نہیں لیا اور خلیجی ممالک پر پے در پے ڈرون اور میزائل حملے کیے جس سے عالمی تجارتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ آیا۔
علاوہ ازیں معاہدے کے امکانات ظاہر ہونے کے بعد پیر کے روز تیل کی قیمتوں میں پانچ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

شیئر: