ڈرائیونگ سیکھنے کے لیے سب سے پہلے ہمت چاہیے، سعودی ڈرائیونگ انسٹرکٹر بلقیس
ڈرائیونگ سیکھنے کے لیے سب سے پہلے ہمت چاہیے، سعودی ڈرائیونگ انسٹرکٹر بلقیس
بدھ 8 اپریل 2026 11:54
2018 میں سعودی خواتین ڈرائیور پہلی دفعہ سڑکوں پر ڈرائیو کرتی نظر آئیں (فوٹو: پکس ہیئر)
سعودی خاتون ڈرائیونگ انسٹرکٹر بلقیس نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ وہ اس شعبے میں آئیں گی اور سعودی لڑکیوں کو ڈرائیونگ کی تربیت دیں گی۔
اخبار 24 سے گفتگو کرتے ہوئے بلقیس نے کہا کہ جس چیز نے انہیں اس شعبے سے منسلک کیا وہ خواتین میں خود اعتمادی پیدا کرنا اور انہیں با اختیار بنانے میں مدد کی خواہش تھی۔
انہوں نے بتایا ’جوں جوں میں اس کام میں آگے بڑھی، میرا یہ احساس قوی ہوتا گیا کہ لڑکیوں کو اس پلیٹ فارم کے ذریعے اعتماد دیا جاسکتا ہے اور یہی میری خواہش بھی تھی۔‘
ایک سوال پر بلقیس کا کہنا تھا کہ ’بطور انسٹرکٹر سب سے بڑا چیلنج جس کا سامنا رہا تو وہ سمجھ کی کمی اور غلطیوں کا دہرانا ہے۔ بعض اوقات ڈرائیونگ سیکھنے کی خواہشمند لڑکیوں کو ایک ہی چیز 50 سے زیادہ مرتبہ سمجھانی پڑتی تھی۔ میں ان سے یہی کہتی ہوں کہ یاد کرلو یا سمجھ لو۔‘
ٹریننگ کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ’ابتدائی کلاسز میں سیکھنے والی لڑکیوں کے اعتماد کو بحال کرنا انتہائی اہم ہوتا ہے۔ پہلی کلاس کے 30 منٹ میں ان کے خوف کو ختم کرنا ضروری ہوتا ہے اور اسی پر توجہ دی جاتی ہے۔ جب ان دیکھا خوف ختم ہوجائے تو آگے کے مراحل آسان ہو جاتے ہیں۔‘
بلقیس نے مزید کہا کہ ’اس میں عمر کا کردار بھی اہم ہوتا ہے، 20 برس کی لڑکی کی ٹریننگ کے لیے ایک ہفتے سے 10 دن کافی ہوتے ہیں تاہم جوں جوں عمر بڑھتی ہے اس دورانیے میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔‘
بلقیس نے اتفاقیہ اس شعبے میں قدم رکھا (فوٹو: سکرین گریب)
ٹریفک حادثات کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ ’حادثات کا بنیادی سبب خوف اور گھبراہٹ نہیں، ٹریفک قوانین سے لاعلمی ہے۔ اگر قوانین کے بارے میں پختہ معلومات ہوں اور ان پر سختی سے عمل کیا جائے تو حادثات نہیں ہوں گے۔‘
ان کے مطابق کہ ’ڈرائیونگ سیکھنے کی خواہشمند خواتین کو صرف ایک ہی مشورہ دوں گی کہ وہ ’درست ٹریننر کا انتخاب کریں اور پرسکون رہیں۔‘
بلقیس نے کہا کہ ’ڈرائیونگ کا انحصار سب سے پہلے ہمت پر ہے، دلیری اور خود اعتمادی بعد میں آتی ہے۔‘