Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی وزارت توانائی: حالیہ حملوں کے باعث متعدد تنصیبات پر آپریشن روک دیا

ایک سعودی اہلکار جان سے گیا اور سات دیگر ملازمین زخمی ہوئے (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی وزارت توانائی کے ایک سرکاری ذریعے نے بتایا ہے کہ’ مملکت میں توانائی کی اہم تنصیبات کو حالیہ دنوں میں ہونے والے متعدد حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں تیل و گیس کی پیداوار، ٹرانسپورٹیشن اور ریفائننگ کے مراکز، پیٹرو کیمیکل کی تنصیبات کے علاوہ ریاض، الشرقیہ ریجن اور ینبع انڈسٹریل سٹی میں الیکڑک سٹی سیکٹر شامل ہے۔
ایس پی اے کے مطابق بیان میں کہا گیا کہ ’ان حملوں میں سعودی توانائی کمپنی کے ایک سعودی اہلکار جان سے گیا اور سات دیگر ملازمین زخمی ہوئے۔ توانائی سیکٹر میں اہم تنصیابت پر متعدد آپریشنل سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔‘
حملوں میں اہم پائپ لائن کے ایک پمپنگ اسٹیشن کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث اس لائن کے ذریعے یومیہ تقریبا 7 لاکھ بیرل تیل کی ترسیل متاثر ہوئی جبکہ یہی لائن اس وقت عالمی مارکیٹ کو سپلائی کا مرکزی ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔
اسی طرح منیفہ آئل فیلڈ کے پیداواری مرکز پر حملے کے نتیجے میں یومیہ 3 لاکھ بیرل پیداوار میں کمی واقع ہوئی، جبکہ اس سے قبل خریص آئل فیلڈ بھی نشانہ بنا، جہاں سے یومیہ 3 لاکھ بیرل پیداوار متاثر ہوئی تھی۔
اس طرح مملکت کی مجموعی پیداواری صلاحیت میں یومیہ 6 لاکھ بیرل کی کمی نوٹ کی گئی ہے۔
حملوں کا دائرہ بڑی ریفائنریوں تک بھی پھیل گیا، جن میں الجبیل، راس تنورہ ریفائنری ، ینبع اور ریاض ریفائنری شامل ہیں، جس کے باعث عالمی منڈیوں کو ریفائن مصنوعات کی برآمدات براہ راست متاثر ہوئی ہیں۔
الجعیمہ میں گیس پراسیسنگ تنصیبات میں آگ لگنے کے واقعات بھی پیش آئے، جس سے ایل پی جی اور قدرتی گیس کی برآمدات متاثر ہوئیں۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ ’ان حملوں کا سلسلہ جاری رہنے کی صورت میں توانائی کی سپلائی میں مزید کمی اور بحالی کے عمل میں سست روی پیدا ہو گی۔
جس کے نتیجے میں تیل کی عالمی مارکیٹوں میں اتار چڑھاو میں اضافہ اور عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے، خاص طورپر اس وقت جب عالمی سطح پر آپریشنل اور ہنگامی ذخائر کا بڑا حصہ پہلے ہی استعمال ہو چکا ہے جس سے سپلائی میں  بھی متاثر ہو گی۔

 

شیئر: