سعودی وزارت توانائی: حالیہ حملوں کے باعث متعدد تنصیبات پر آپریشن روک دیا
جمعرات 9 اپریل 2026 22:27
ایک سعودی اہلکار جان سے گیا اور سات دیگر ملازمین زخمی ہوئے (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی وزارت توانائی کے ایک سرکاری ذریعے نے بتایا ہے کہ’ مملکت میں توانائی کی اہم تنصیبات کو حالیہ دنوں میں ہونے والے متعدد حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں تیل و گیس کی پیداوار، ٹرانسپورٹیشن اور ریفائننگ کے مراکز، پیٹرو کیمیکل کی تنصیبات کے علاوہ ریاض، الشرقیہ ریجن اور ینبع انڈسٹریل سٹی میں الیکڑک سٹی سیکٹر شامل ہے۔
ایس پی اے کے مطابق بیان میں کہا گیا کہ ’ان حملوں میں سعودی توانائی کمپنی کے ایک سعودی اہلکار جان سے گیا اور سات دیگر ملازمین زخمی ہوئے۔ توانائی سیکٹر میں اہم تنصیابت پر متعدد آپریشنل سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔‘
ان حملوں میں ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے ایک پمپنگ اسٹیشن کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث اس لائن کے ذریعے یومیہ تقریبا 7 لاکھ بیرل تیل کی ترسیل متاثر ہوئی جبکہ یہی لائن اس وقت عالمی مارکیٹ کو سپلائی کا مرکزی ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔
اسی طرح منیفہ آئل فیلڈ کے پیداواری مرکز پر بھی حملہ ہوا، جس سے یومیہ تقریبا 3 لاکھ بیرل پیداوار میں کمی واقع ہوئی، جبکہ اس سے قبل خریص آئل فیلڈ بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے یومیہ 3 لاکھ بیرل پیداوار متاثر ہوئی تھی۔
اس طرح مملکت کی مجموعی پیداواری صلاحیت میں یومیہ 6 لاکھ بیرل کی کمی واقع ہوئی ہے۔

حملوں کا دائرہ بڑی ریفائنریوں تک بھی پھیل گیا، جن میں الجبیل، راس تنورہ ریفائنری، ینبع اور ریاض ریفائنری شامل ہیں، جس کے باعث عالمی مارکیٹوں کو ریفائن مصنوعات کی برآمدات براہ راست متاثر ہوئی ہیں۔
الجعیمہ میں گیس پراسیسنگ کی تنصیبات آگ لگنے کے واقعات پیش آئے، جس سے ایل پی جی اور قدرتی گیس کی برآمدات متاثر ہوئیں۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ ’ان حملوں کا تسلسل توانائی کی سپلائی میں مزید کمی اور بحالی کے عمل میں سست روی کا باعث بنتا ہے، جس سے سپلائی کی سکیورٹی متاثر ہونے کے ساتھ تیل کی مارکیٹوں میں اتار چڑھاو میں اضافہ ہوتا ہے۔‘
اس نے عالمی معیشت پر پہلے ہی منفی اثرات مرتب کیے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب عالمی سطح پر آپریشنل اور ہنگامی ذخائر کا بڑا حصہ پہلے ہی استعمال ہو چکا ہے ،جس سے سپلائی میں بھی متاثر ہو گی۔
