Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

28 سال تک دنیا میں پیدل چلنے والا شخص اپنے گھر پہنچنے کے قریب

کارل بُشبے نے سنہ 1998 میں اپنے گھر کی طرف پیدل سفر کا آغاز کیا تھا (فوٹو: اے اے فوٹوز)
دنیا جہاں چند گھنٹوں کے سفر کو بھی تھکن سمجھتی ہے، وہاں ایک شخص ایسا بھی ہے جس نے اپنی زندگی کی تقریباً تین دہائیاں صرف چلتے ہوئے گزار دی ہیں۔
برطانیہ سے تعلق رکھنے والے سابق پیرا ٹروپر کارل بُشبے نے سنہ 1998 میں ایک ایسا سفر شروع کیا جو اب انسانی عزم اور دیوانگی کی سب سے حیران کن داستانوں میں شمار ہوتا ہے۔
کارل بُشبے نے نومبر 1998 میں جنوبی امریکہ کے انتہائی جنوبی شہر پنٹا آریناس، چلی سے اپنے 36 ہزار میل طویل سفر کا آغاز کیا۔ ان کے ذہن میں صرف ایک خواب تھا کہ وہ بغیر کسی گاڑی، جہاز، کشتی یا کسی بھی موٹرائزڈ سواری کے پوری دنیا عبور کرتے ہوئے اپنے انگلینڈ میں اپنے آبائی شہر ہل واپس پہنچیں۔
یہ خیال ابتدا میں ایک بار میں ہونے والی گفتگو اور چیلنج سے پیدا ہوا، مگر دیکھتے ہی دیکھتے یہ ایک ایسی مہم میں بدل گیا جس نے کارل بُشبے کی پوری زندگی اپنی لپیٹ میں لے لی۔ انہوں نے خود پر دو سخت اصول نافذ کیے رکھے۔ پہلا یہ کہ وہ کسی بھی موٹرائزڈ ٹرانسپورٹ کا استعمال نہیں کریں گے اور دوسرا یہ کہ جب تک وہ پیدل چل کر گھر واپس نہیں پہنچ جاتے، تب تک انگلینڈ واپس نہیں جائیں گے۔
سفر کے ابتدائی برسوں میں انہوں نے جنوبی امریکہ کے دشوار گزار پہاڑ، ویران علاقے اور برفانی راستے عبور کیے۔ مگر اصل آزمائش اس وقت شروع ہوئی جب وہ پاناما اور کولمبیا کے درمیان موجود دنیا کے خطرناک ترین جنگلات میں سے ایک ’ڈیرین گیپ‘ میں داخل ہوئے۔
یہ علاقہ جرائم پیشہ گروہوں، منشیات سمگلروں، زہریلے جانوروں اور ناقابلِ عبور سمجھے جانے والے جنگلات کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے۔ کئی مقامات پر انہیں گھٹنوں تک دلدل میں چلنا پڑا، بارشوں میں بھیگتے ہوئے راتیں گزارنی پڑیں اور خوراک کی شدید کمی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
کارل بُشبے نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ بعض اوقات انہیں اندازہ ہی نہیں ہوتا تھا کہ اگلی صبح زندہ اٹھ سکیں گے یا نہیں۔ مگر انہوں نے ہار نہیں مانی اور پورا جنگل عبور کر کے شمالی امریکہ کی طرف بڑھتے رہے۔
امریکہ اور پھر الاسکا تک پہنچنے کے بعد انہوں نے دنیا کو حیران کر دیا۔ سنہ 2006 میں وہ بیرنگ سٹریٹ تک پہنچے، جو روس اور امریکہ کے درمیان برفانی سمندری راستہ ہے۔ شدید سردی، ٹوٹتی برف اور منجمد ہواؤں کے باوجود انہوں نے برف کے اوپر چلتے ہوئے یہ راستہ عبور کیا۔
یہ لمحہ ان کے سفر کے سب سے خطرناک اور تاریخی مراحل میں شمار کیا جاتا ہے، کیونکہ اس سے قبل کسی شخص نے اس انداز میں مسلسل پیدل عالمی سفر کی کوشش نہیں کی تھی۔

سنہ 2008 کا عالمی مالیاتی بحران بھی کارل بُشبے کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوا (فوٹو: کارل بُشبے)

لیکن روس پہنچتے ہی ان کی مشکلات ختم نہیں ہوئیں۔ روسی حکام نے انہیں ویزا قوانین کی خلاف ورزی پر گرفتار کر لیا۔ کارل بُشبے کو تقریباً دو ماہ روسی جیل میں گزارنے پڑے جبکہ بعد ازاں انہیں ملک چھوڑنے پر مجبور بھی کیا گیا۔
یہ واقعہ ان کی زندگی کا سب سے مایوس کن مرحلہ ثابت ہوا۔ کئی برس تک قانونی پابندیوں نے ان کے سفر کو روک کر رکھا۔ بلکہ بعض اوقات ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ شاید یہ مہم کبھی مکمل ہی نہ ہو سکے۔
اسی دوران سنہ 2008 کا عالمی مالیاتی بحران بھی ان کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوا۔ ان کے سپانسرز پیچھے ہٹ گئے اور آخر کار مالی مشکلات نے انہیں سفر روکنے پر مجبور کر دیا۔ اس کے بعد کارل بُشبے واپس میکسیکو چلے گئے، جہاں انہوں نے عارضی طور پر رہائش اختیار کی۔
ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ ’میں نے ایک موجودہ سپانسر اور ایک ممکنہ سپانسر دونوں کھو دیے تھے۔ مالی بحران نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا تھا۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ’میکسیکو میرے لیے بہترین جگہ ثابت ہوا۔ یہاں زندگی سستی ہے، لوگ شاندار ہیں اور مجھے زیادہ کچھ نہیں چاہیے ہوتا، صرف ٹی شرٹس، شارٹس اور چپلیں۔‘
کارل بُشبے کی مشکلات صرف مالی یا جغرافیائی نہیں تھیں، بلکہ ذاتی زندگی بھی اس سفر سے شدید متاثر ہوئی۔ طویل جدائی اور مسلسل سفر نے ان کی شادی ختم کر دی جبکہ خاندان سے دوری بھی ان کے لیے ایک مستقل تکلیف بنی رہی۔
مگر اس سب کے باوجود انہوں نے اپنے خواب کو ادھورا چھوڑنے سے انکار کر دیا۔

کارل بُشبے کو امید ہے کہ وہ رواں برس ستمبر میں اپنے آبائی شہر ہل پہنچ جائیں گے (فوٹو: کارل بُشبے)

سنہ 2024 میں جب بعض سرحدی پابندیوں نے ان کے راستے بند کیے تو انہوں نے اپنے اصول نہ توڑے۔ رپورٹس کے مطابق انہوں نے کچھ آبی راستے تیر کر عبور کیے تاکہ ’بغیر موٹرائزڈ ٹرانسپورٹ‘ والا اصول برقرار رہے۔
سنہ 2025 میں وہ استنبول پہنچے اور باسفورس برج عبور کر کے دوبارہ یورپ میں داخل ہوئے۔ یہ لمحہ ان کے لیے جذباتی بھی تھا کیونکہ تقریباً تین دہائیوں بعد اب ان کے گھر واپسی کے امکانات حقیقت بنتے دکھائی دینے لگے تھے۔
اس وقت کارل بُشبے یورپ کا سفر تہہ کرنے کے آخری مرحلے میں ہیں۔ وہ ہنگری سے آسٹریا، پھر جرمنی، بیلجیئم اور فرانس کے راستے انگلینڈ پہنچنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اب یہ سفر ختم ہونا چاہیے، لیکن میرے جذبات ملے جلے ہیں۔ یہ صرف ایک سفر کا اختتام نہیں بلکہ میری زندگی کے ایک پورے دور کا خاتمہ ہوگا۔‘
انہوں نے مزید کہا ’اگر میری مرضی ہوتی تو میں مسلسل چلتا رہتا، لیکن ویزا قوانین مجھے بار بار مختلف ممالک جانا پڑتا ہے۔‘
57 سالہ کارل بُشبے اب تک تقریباً 35 ہزار میل پیدل چل چکے ہیں اور 25 ممالک عبور کر چکے ہیں۔ اب ان کے اور منزل کے درمیان صرف چند سو میل باقی رہ گئے ہیں۔

سنہ 2025 میں وہ استنبول پہنچے اور باسفورس برج عبور کر کے دوبارہ یورپ میں داخل ہوئے (فوٹو: کارل بُشبے)

رپورٹس کے مطابق وہ انگلش چینل عبور کرنے کے لیے چینل ٹنل حکام سے خصوصی اجازت لینے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ وہ پیدل برطانیہ میں داخل ہو سکیں۔
کارل بُشبے کو امید ہے کہ وہ رواں برس ستمبر میں اپنے آبائی شہر ہل پہنچ جائیں گے، جہاں ان کی والدہ اینجیلا بُشبے تقریباً 28 سال بعد اپنے بیٹے کو گھر واپس آتا دیکھیں گی۔
کارل بُشبے نے اپنے اس طویل سفر پر ایک کتاب بھی لکھ رکھی ہے جس کا نام ’جائنٹ سٹیپس ہے۔ یہ کتاب پہلی بار سنہ 2005 میں شائع ہوئی تھی۔ کتاب کے 2007 کے تازہ ایڈیشن میں 31 مارچ 2006 تک پیش آنے والے واقعات اور بیرنگ سٹریٹ عبور کرنے کی تفصیلات بھی شامل کی گئی ہیں۔
اس کتاب اور بیرنگ سٹریٹ عبور کرنے کے تاریخی واقعے سے متاثر ہو کر ’آئس فلو‘ نامی ایک بورڈ گیم بھی بنائی گئی ہے۔

شیئر: