Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب نے کئی بیلسٹک میزائل مار گرائے، توانائی کی تنصیبات کے قریب ملبہ گرا

مشرقی صوبے کی سمت داغے گئے تین بیلسٹک میزائلوں کو بھی روکا گیا ہے (فوٹو: ایس پی اے)
منگل کی صبح سعودی عرب میں روکے گئے بیلسٹک میزائلوں کے ملبے توانائی کے مراکز کے قریب گرنے کے بعد نقصانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق وزارت دفاع کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ مشرقی علاقے کی طرف داغے گئے سات بیلسٹک میزائل روک کر تباہ کر دیے گئے اور میزائلوں کے ملبے توانائی کے مراکز کے قریب گر گئے۔
ان سات میزائلوں کے علاوہ، سعودی وزارت دفاع نے کہا کہ مشرقی صوبے کی سمت داغے گئے تین دیگر بیلسٹک میزائلوں کو بھی روکا گیا ہے۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد سے، ایران، سعودی عرب اور دیگر خلیجی عرب ممالک پر مسلسل میزائل اور ڈرون حملے کر رہا ہے۔
ایران نے آہستہ آہستہ آبنائے ہرمز میں کچھ بحری ٹریفک کے لیے پابندیوں کو نرم کیا ہے اور محدود سطح پر کچھ جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی ہے تاہم تہران کے اقدامات کی وجہ سے اس اہم سمندری گزرگاہ میں توانائی کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں جس نے دنیا بھر کی معیشتوں کو متاثر کیا ہے۔
خلیجی ممالک نے توانائی سے متعلق اہم بنیادی ڈھانچے پر ایرانی حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور بہت سے دوسرے ممالک نے بھی جنگ کے دوران تہران کی حکمتِ عملی پر تنقید کی ہے۔
ایران نے اسرائیل کے ساتھ خطے میں امریکی اثاثوں پر بھی حملے کیے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جنہوں نے منگل کی رات (امریکی وقت کے مطابق) تک ایران کو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے اہم سمندری راستہ کھولنے کی ڈیڈ لائن دی تھی اور بصورت دیگر تہران پر ’جہنم کے دروازے‘ کھولنے کی دھمکی دی ، نے پیر کو ایرانی تجویز مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ڈیڈ لائن حتمی ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ’ہمارے پاس ایک منصوبہ ہے، اپنی فوجی طاقت کی وجہ سے، جس کے تحت کل رات 12 بجے تک ایران کے ہر پُل کو تباہ کر دیا جائے گا۔‘
ایران نے آبنائے ہرمز فوری طور پر کھولنے کے امریکی مطالبے کو مسترد کر دیا لیکن کہا کہ ملک جنگ کا پائیدار حل چاہتا ہے۔
علی الصبح حملے
کارکنوں کا کہنا ہے کہ منگل کی صبح ایران کے دارالحکومت تہران پر  نئے حملوں کیے گئے۔
متحدہ عرب اور بحرین کو ایرانی حملوں کے نئے سلسلے کا سامنا کرنا پڑا۔
عراق کے کرد علاقے میں ایک مکان پر ڈرون حملے کے بعد دو افراد ہلاک ہو گئے جس کے بارے میں حکام نے کہا کہ یہ ایران سے داغا گیا تھا۔
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب ایرانی فورسز اور اتحادی ملیشیا نے شمالی کردستان کے علاقوں کو ڈرونز، راکٹ اور میزائلز سے نشانہ بنایا۔

شیئر: