حج تیسرے مرحلے میں داخل، جمرہ عقبہ پر رمی کا سلسلہ جاری
حج تیسرے مرحلے میں داخل، جمرہ عقبہ پر رمی کا سلسلہ جاری
بدھ 27 مئی 2026 7:18
ارسلان ہاشمی ۔ اردو نیوز، منیٰ
حجاج آج سارا دن منیٰ میں ہی قیام کریں گے (فوٹو: ایس پی اے)
دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں حجاج کرام 9 ذوالحجہ کی شب مزدلفہ میں گزارنے اور سنت نبوی ﷺ کی پیروی کرتے ہوئے قصر و جمع کی صورت میں مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کیں ۔
دس ذوالحجہ کو حجاج مرحلہ وار قافلوں کی صورت میں وادی منیٰ پہنچے جہاں انہوں نے جمرہ عقبہ (بڑے شیطان) کو کنکریاں ماریں، قربانی کے بعد بال اتروا کر احرام کی پابندیوں سے آزاد ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق رکنِ اعظم وقوفِ عرفہ کی ادائیگی کے بعد حج 1447 بمطابق 2026 اپنے تیسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
یوم النحر یا عیدالاضحی 10 ذوالحجہ کو مقررہ شیڈول کے مطابق حجاج کی جانب سے مختلف اوقات میں جمرات کے مقام پر واقع جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہے گا۔ رمی کے پہلے دن جمرہ عقبہ یعنی بڑے شیطان کو سات کنکریاں ماری جاتی ہیں۔
رمی اور حلق کے بعد بیشتر حجاج نے طواف افاضہ کیا اور احرام کھول دیا (فوٹو: ایس پی اے)
حج ’تمتع‘ اور حج ’قران‘ کرنے والے حجاج کے لیے ایام نحر(10، 11 اور 12 ذوالحجہ) میں کسی بھی وقت بطور شکرانہ کے جانور ذبح کرنا ہوتا ہے، جس کے بعد وہ ’حلق‘ (بال کٹوانا یا منڈوانا) کرکے احرام کی محدود پابندیوں سے آزاد ہو جاتے ہیں۔
البتہ حج ’افراد‘ کرنے والوں پر قربانی نہیں ہوتی اس لیے وہ پہلے دن جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے کے بعد حلق یا قصر کروا کر احرام کھول سکتے ہیں۔
سعودی حکومت کی جانب سے قربانی کے ’الاضاحی‘ پروگرام کے تحت حجاج کو مطلع کر دیا جاتا ہے کہ ان کی جانب سے قربانی کس وقت ہو گی۔
سکیورٹی اہلکار حجاج کی خدمت میں پیش پیش ہیں (فوٹو، ایس پی اے)
دس ذوالحجہ کو وہ حجاج جنہوں نے قربانی کی ہے، انہوں نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے کے بعد بال کٹوا کر احرام کھول دیا۔
حجاج آج سارا دن منیٰ میں ہی قیام کریں گے اس دوران وہ زیادہ تر وقت اپنے خیموں میں رہتے ہوئے عبادت کریں گے جبکہ کل 11 ذوالحجہ کو تینوں شیطانوں کو سات، سات کنکریاں ماری جائیں گی۔
مزدلفہ سے حجاج کی منیٰ آمد کا سلسلہ گزشتہ شب سے شروع ہو گیا تھا (فوٹو: ایس پی اے)
جمرات پل پر سکیورٹی انتظامات مثالی ہیں جن میں پل پر آمدورفت کے راستوں کو جدا کرنا سب سے اہم ہے۔ راستوں کو جدا کرنے کا مقصد پل پر جانے اور رمی کے بعد واپس آنے والے حجاج کو ٹکراؤ سے بچانا اور غیرضروری ازدحام سے محفوظ رکھنا ہے۔
جمرات پل کے راستوں میں جگہ جگہ ٹھنڈے پانی کے کولرز نصب کیے گئے ہیں جبکہ زیریں اور بالائی منزلوں پر تازہ ہوا کے لیے بڑے بڑے پنکھے نصب ہیں تاکہ حجاج بغیر کسی دشواری کے رمی کر سکیں۔
سعودی فورسز کے سکیورٹی اہلکار حجاج کی رہنمائی اور مدد میں پیش پیش ہیں جبکہ سکاوٹس اور رضا کار بھی اہم خدمات انجام دے رہے ہیں۔