ایران کے خلیجی ممالک میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے
کویت پیٹرولیم کارپوریشن نے اتوار کے روز بتایا کہ ایرانی ڈرون حملے کے بعد اس کے آپریٹنگ یونٹس میں لگنے والی آگ کے باعث ’شدید مالی نقصان‘ ہوا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ایران کی جانب سے اتوار کو خلیجی خطے کے توانائی کے اہم بنیادی ڈھانچے پر حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت میں شہری تنصیبات کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق خلیجی ممالک کو گذشتہ چند ہفتوں کے دوران ایران کی جانب سے بارہا ڈرون اور میزائل حملوں کا سامنا رہا ہے، جو فروری کے آخر میں شروع ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے ردِعمل میں کیے جا رہے ہیں۔
ایران نے تیل سے مالا مال خلیجی ممالک میں توانائی اور دیگر صنعتی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، اور اپنے پڑوسی ممالک پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو امریکی افواج کو حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے رہے ہیں۔
خلیجی ریاستوں نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا کہ ایران کے پاس اہم آبنائے ہرمز کو کھولنے کے معاہدے کے لیے صرف 48 گھنٹے باقی ہیں، ورنہ اسے ’جہنم‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا کہ ’یاد ہے جب میں نے ایران کو معاہدہ کرنے یا آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے دس دن دیے تھے؟‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے، 48 گھنٹوں میں ان پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔‘
ایران کی مرکزی عسکری قیادت نے اس الٹی میٹم کو مسترد کیا۔ جنرل علی عبداللہی علی آبادی نے کہا کہ ٹرمپ کی دھمکی ایک ’بے بس، گھبرائی ہوئی، غیر متوازن اور احمقانہ کارروائی‘ ہے۔
صدر ٹرمپ کی زبان میں جواب دیتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ ’تمہارے لیے جہنم کے دروازے کھل جائیں گے۔‘
دوسری جانب ابو ظبی کے حکام نے بتایا کہ وہ متحدہ عرب امارات کے شمال مغربی ساحل پر واقع روویس انڈسٹریل سٹی میں ایک پیٹروکیمیکل پلانٹ میں لگنے والی آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امارات کے میڈیا آفس کا کہنا ہے کہ حکام بروج پیٹروکیمیکلز پلانٹ میں لگی آگ کا مقابلہ کر رہے ہیں، جو فضائی دفاعی نظام کی جانب سے کامیاب روک تھام کے بعد گرنے والے ملبے کے باعث لگی ہیں۔ ‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’صورتِ حال کا جائزہ لینے کے دوران پلانٹ کی سرگرمیاں فوری طور پر معطل کر دی گئی ہیں۔ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔‘
اس سے قبل متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے کہا تھا کہ وہ میزائل اور ڈرون حملوں کا جواب دے رہی ہے۔
ایران کی فوج نے اس سے قبل کہا تھا کہ وہ متحدہ عرب امارات میں ’ایلومینیم صنعتوں‘ اور کویت میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا رہی ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران بارہا خلیجی ممالک میں شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے چکا ہے، جبکہ ایران میں ہونے والے امریکی، اسرائیلی حملوں نے بھی ایسے اہداف کو نشانہ بنایا ہے جو اس کی معیشت کے لیے اہم ہیں۔
صوبہ خوزستان کے نائب گورنر کے مطابق ہفتے کے روز جنوب مغربی ایران میں ایک پیٹروکیمیکل مرکز پر حملے کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔
بحرین میں اتوار کے روز توانائی کی حکومتی کمپنی نے کہا کہ ایک ایرانی ڈرون حملے سے تیل ذخیرہ کرنے والے ٹینک میں آگ بھڑک اٹھی، جسے بعد میں بجھا دیا گیا۔ بابکو انرجیز اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ آج اس کی ایک ذخیرہ گاہ میں ایک واقعہ پیش آیا جس کے نتیجے میں ٹینک میں آگ لگ گئی، جو ایرانی ڈرون حملے کا نتیجہ تھا۔
کویت پیٹرولیم کارپوریشن نے اتوار کے روز بتایا کہ ایرانی ڈرون حملے کے بعد اس کے آپریٹنگ یونٹس میں لگنے والی آگ کے باعث ’شدید مالی نقصان‘ ہوا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی، اور ٹیمیں آگ پر قابو پانے اور اسے دیگر تنصیبات تک پھیلنے سے روکنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔
اس سے قبل کویت کی وزارتِ بجلی و پانی نے کہا تھا کہ ایران کے ڈرون حملے سے کویت کے دو بجلی اور پانی صاف کرنے والے پلانٹس کو نقصان پہنچا، جس کے نتیجے میں ’نمایاں مالی نقصان اور بجلی پیدا کرنے والے دو یونٹس کی بندش‘ ہوئی۔
