ٹرمپ کی ایران جنگ کے خاتمے سے متعلق کابینہ ارکان سے ملاقات
28 فروری سے شروع ہونے والی جنگ کے مکمل خاتمے کے لیے کوششیں جاری ہیں (فوٹو: روئٹرز)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج اپنی کابینہ کے ارکان کے ساتھ ایران جنگ کے حوالے سے ملاقات کریں گے جو اس وقت ایک غیریقینی کی صورت حال میں ہے۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق یہ ملاقات صدر ٹرمپ کے اس دعوے کے چند روز بعد ہو رہی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ بات چیت میں ’بڑے پیمانے پر معاملات طے‘ پا چکے ہیں تاہم مذاکرات اب بھی جاری ہیں۔
اس اہم ملاقات سے قبل صدر ٹرمپ یہ کہتے ہوئے اعتماد کا اظہار کر چکے ہیں کہ وہ ایک ایسے معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں جس سے آبنائے ہرمز کھل جائے گی جو انہیں ایک ایسی قابل اعتماد دلیل فراہم کرے گی کہ ایران کی جوہری صلاحیت اس نکتے سے بہت کم ہو گئی ہے جس کو وہ اپنی کامیابی قرار دے سکتا تھا، جبکہ اس تنازع کو بھی ختم کر دیا ہے جو سیاسی طور پر ریپبلکنز کے لیے غیرمقبول اقدام تھا۔
تاہم اس وقت جو صورت حال ہے اس میں صدر ٹرمپ کو بھی یہ خدشہ ہے کہ ان کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کا انجام غیر تسلی بخش بھی ہو سکتا ہے۔
اس وقت نظر آنے والی ممکنہ ڈیل میں کئی اہم معاملات شامل نہیں اور ان کو بعد میں دیکھا جائے گا، اس لیے صدر ٹرمپ کو سخت تنقید کا بھی سامنا ہے اور یہاں تک کہ اس میں ان کے حامی بھی شامل ہیں اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس تنازع سے ایران کی سخت گیر قیادت کو حوصلہ ملے گا۔
یہ صورت ایک ایسے وقت میں بن رہی ہے جب انتخابات قریب آ رہے ہیں جن میں کانگریس کے کنٹرول کا تعین ہو گا جبکہ ریپبلکن جماعت اس بات پر بھی پریشان ہے کہ مہنگائی اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں امریکی ووٹرز کے مزاج کو بگاڑ رہی ہیں۔
امریکی فوج کی جانب سے پیر کو ایران کے جنوبی علاقوں پر فضائی حملوں کے بعد مذاکرات کا عمل مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔
امریکہ نے ان حملوں کو ’دفاعی‘ اقدام قرار دیا اور کہا کہ ان میں بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں اور ان مقامات کو نشانہ بنایا گیا جہاں سے میزائل چلائے جاتے ہیں۔
یو ایس سینٹرل کمانڈ کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا کہ حملوں کے دوران جنگ بندی کی روشنی میں ’تحمل‘ سے کام لیا گیا جبکہ ایران نے اس کارروائی کو ’بدنیتی پر مبنی اور ناقابل اعتبار‘ قرار دیا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جنگ بندی میں توسیع کے حوالے سے ایران کے ساتھ بات چیت میں مزید کچھ روز لگیں گے۔
انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ’وہ یا تو اچھی ڈیل کرنے جا رہے ہیں یا پھر کوئی ڈیل نہیں ہو گی۔‘
اسی صدر ٹرمپ نے منگل کو سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ اگر تہران ہتھیار ڈالنے کی پیشکش بھی کرتا ہے تو پھر میڈیا تنازع کے خاتمے کو ایران کی ’شاندار فتح‘ کے طور پر ہی پیش کرے گا۔