سعودی طالبعلم کے قتل کیس میں برطانوی شہری کو عمر قید کی سزا
مجرم کو کم از کم 22 سال اور 6 ماہ جیل میں گزارنا ہوں گے۔ ( فائل فوٹو)
گزشتہ سال کیمبرج میں سعودی طالب علم محمد القاسم کے قتل کیس میں ایک برطانوی تعمیراتی ورکر کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
کیمرج کروان کوٹ کے مطابق پیرول پر غور کیے جانے سے قبل مجرم کو کم از کم 22 سال اور 6 ماہ جیل میں گزارنا ہوں گے۔
22 سالہ چیس کورِیگن کو گزشتہ برس مارچ میں 20 سالہ سعودی محمد القاسم پر چاقو سے جان لیوا حملے کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔
محمد القاسم کیمرج میں ای ایف انٹرنیشنل لینگویج کیمپس میں انگریزی کورس کے طالبعلم تھے جو ایک نجی سکول ہے۔
الاخباریہ کے مطابق کراون کورٹ کے حح نے عمر قید کی سزا سناتے ہوئے مجرم کے مجرمانہ ریکارڈ اور منشیات کے استعمال کا بھی حوالہ دیا۔
چیس کورِیگن کو چاقو رکھنے پر بھی 18 ماہ قید کی سزا سنائی گئی، یہ سزا عمر قید کے ساتھ بیک وقت نافذ ہوگی۔
ہولبروک روڈ کے رہائشی چیس کورِیگن نے مقدمے کے دوران فرد جرم سے انکار کیا تاہم چاقو رکھنے کا اعتراف کیا۔
جیوری کو بتایا’ اس نے محمد القاسم کو زخمی کرنے کے لیے نہیں، بلکہ ڈرانے کے ارادے سے چاقو لہرایا تھا۔ اس سے قبل وہ قریبی پب میں شراب پی رہا تھا جبکہ دو مرتبہ کوکین بھی استعمال کی تھی۔‘
اس کے باوجود اس کا اصرار تھا کہ وہ نشے میں نہیں تھا۔ دعویٰ کیا کہ اس پر ماضی میں حملہ ہوا تھا، اس لیے دفاع کے لیے کچن کا چاقو ساتھ رکھتا تھا۔
مقدمے کے دوران چیس کورِیگن نے یہ بھی کہا کہ ’اسے یہ احساس نہیں ہوا تھا محمد القاسم زخمی ہوا ہے، ایسا لگا کہ وہ مجھے نقصان پہنچانے والا ہے۔ اس واقعے کی درست تفصیلات یاد نہیں۔‘
پراسیکیوٹر نے کہا کہ ’وقوعہ کے بعد سلور کچن چاقو جس کا بلیڈ 13 سینٹی میٹر تھا، قریبی سڑک کے کنارے پودوں کے درمیان چھپا ہوا ملا۔‘
50 سالہ پیٹر کورِیگن جنہوں نے مجرم کی مدد کی مدد کا اعتراف کیا تھا، دو سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
یاد رہے کیمبرج کے جنوب میں واقع مل پارک میں 20 سالہ سعودی طالبعلم محمد القاسم کو چاقو کے وار کرکے قتل کردیا گیا تھا۔ برطانوی پولیس نے واقعے میں ملوث ہونے کے شبے میں دو افراد کو گرفتار کیا تھا۔
