Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

الباحہ میں آم کے سیزن کا آغاز، سالانہ پیداوار 1500 ٹن تک پہنچ گئی

الباحہ ریجن میں مینگو فارمز میں آم کے سیزن کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے جبکہ تھامہ و دیگر کمشنریوں میں آم کی فصل تیاری کے آخری مرحلے میں ہے۔
سعودی خبر رساں ایجنسی کے مطابق آم کی پیداوار ریجن میں زرعی سرگرمیوں کے فروغ، غذائی تحفظ اور مقامی معیشت میں بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔
المخواہ اور قلوہ کمشنری آم کی کی پیداوار کے لیے موزوں علاقے ہیں۔ یہاں کے گرم موسمی حالات اور زرخیز مٹی اعلٰی معیار اور متنوع اقسام کے آم کی پیداوار کے لیے مفید ہے۔
ریجن میں آم کی پیداوار میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور وادیوں اور پہاڑی ڈھلوانوں پر ہزاروں درخت پھیلے ہوئے ہیں۔ یہاں آم کی مختلف اقسام جن میں ’التومی‘، ’الجلن‘ اور بلدی شامل ہیں، کی کامیابی سے کاشت کی جاتی ہیں۔
آم کا سیزن کاشتکاروں کے لیے ایک اہم معاشی ذریعہ بھی ہے۔ منڈیوں میں خرید و فروخت کی سرگرمیاں تیز ہو جاتی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ  دیہی فارمزمیں سیاحوں اور مقامی افراد کی آمد ورفت بڑھ جاتی ہے۔

 زرعی سیاحت کی سپورٹ کے ساتھ تازہ پیداوار کی براہ راست فروخت کے مراکز بھی قائم ہو جاتے ہیں۔
محکمہ ماحولیات، پانی و زراعت کے علاقائی دفتر کے ڈائریکٹر انجینیئر فہد الزھرانی نے بتایا کہ ’وزارت، آم کی کاشت کو ایک منافع بخش فصل کے طور پر فروغ دے رہی ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ الباحہ میں آم کی کاشت کا رقبہ تقریباً 113 ہیکٹر ہے جبکہ سالانہ پیداوار 1500 ٹن تک پہنچ گئی ہے۔

انجینیئر فہد الزھرانی نے کہا کہ ’وزارت کی جانب سے مختلف پروگرام اور اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں جن میں ’ریف‘ پروگرام نمایاں ہے جو کاشتکاروں کو مالی و فنی مدد فراہم کرتا ہے۔
کاشتکاروں کی رہنمائی اور تربیت کے لیے بھی خصوصی پروگرام ہیں۔ ان میں جدید آبپاشی، کھاد کے استعمال اور کیڑوں کے تدارک طریقے شامل ہیں۔

 

شیئر: