افغانستان میں جنگی جرائم کا الزام، سابق آسٹریلوی فوجی بین رابرٹس سمتھ کی ضمانت منظور
آسٹریلیا کی ایک عدالت نے سابق فوجی بین رابرٹس سمتھ کی ضمانت منظور کر لی ہے جن پر افغانستان میں نہتے قیدیوں کے قتل کے الزامات کے تحت مقدمہ چل رہا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جمعے کو سڈنی کی ایک عدالت میں سماعت کے دوران جج گریگ گروگن نے رابرٹس سمتھ کو رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات پر مطمئن ہیں کہ ’مجوزہ شرائط سے ملزم کے ملک سے فرار ہونے یا گواہوں پر اثر انداز ہونے کے خطرات کو کم کیا جا سکے گا۔‘
47 سالہ بین رابرٹس سمتھ کسی زمانے میں آسٹریلیا کے گھر گھر میں پہچانے جانے والے نام تھے۔
سال 2011 میں انہیں آسٹریلیا کے اعلیٰ ترین فوجی اعزاز ’وکٹوریہ کراس‘ سے نوازا گیا تھا جو صرف غیر معمولی جرأت دکھانے والے فوجیوں کو دیا جاتا ہے۔
تاہم ان کی شہرت اس وقت متاثر ہونا شروع ہوئی جب سنہ 2020 میں منظرِ عام پر آنے والی ایک اہم فوجی رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ افغانستان میں طالبان کے خلاف برسرِ پیکار آسٹریلوی ایلیٹ یونٹس کے اہلکار مبینہ طور پر تشدد، ماورائے عدالت قتل اور ’لاشوں کی گنتی‘ کے مقابلوں جیسے گھناؤنے جرائم میں ملوث تھے۔
رواں ماہ رابرٹس سمتھ پر ’جنگی جرائم اور قتل‘ کے پانچ الزامات عائد کیے گئے تھے۔
پولیس کمشنر کریسی بیرٹ کے مطابق ’سابق فوجی پر الزام ہے کہ وہ سنہ 2009 سے سنہ 2012 کے دوران ہونے والے متعدد غیر قانونی قتل کے واقعات میں شریک تھے۔‘
ضمانت کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے جج گروگن نے اس بات پر زور دیا کہ اگر رابرٹس سمتھ کی ضمانت مسترد کر دی جاتی تو انہیں مقدمے کی باقاعدہ سماعت شروع ہونے سے پہلے ہی ’برسوں‘ جیل میں گزارنے پڑ سکتے تھے۔
اگر بین رابرٹس سمتھ پر الزامات ثابت ہو جاتے ہیں، تو انہیں عمر قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ مبینہ جرائم افغانستان میں تعیناتی کے دوران 2009 اور 2012 کے درمیانی عرصے میں پیش آئے۔
آسٹریلوی فوج کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی حاضر سروس یا سابق فوجی کو اتنے سنگین جنگی جرائم کے الزامات کے تحت کٹہرے میں لایا گیا ہے۔
یہ مقدمہ نہ صرف آسٹریلیا بلکہ عالمی سطح پر فوجی نظم و ضبط اور جنگی اخلاقیات کے حوالے سے گہری نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔
