Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’فیصلہ آپ کا ہے، سنہرا مستقبل یا بمباری‘ ، امریکہ کی ایران کو جنگ دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی

جنرل ڈین کین کے مطابق ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے جہازوں کو روک کر خبردار کیا جائے گا (فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ کے اعلیٰ فوجی حکام نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی افواج کسی بھی لمحے دوبارہ جنگی کارروائیاں شروع کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور اگر تہران نے امن معاہدے پر آمادگی ظاہر نہ کی تو اسے ’بمباری اور ناکہ بندی‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جمعرات کو پینٹاگون میں ایک بریفنگ کے دوران امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ نے ایران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’تہران کے پاس دو راستے ہیں یا تو وہ ایک خوشحال مستقبل اور ’سنہرے پل‘ کا انتخاب کرے جو ایرانی عوام کے مفاد میں ہو، یا پھر تباہی کا راستہ اپنائے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ایران نے غلط انتخاب کیا تو اسے سخت بحری ناکہ بندی اور اپنے بنیادی ڈھانچے، بجلی کے گھروں اور توانائی کے مراکز پر بمباری کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘
ٹرمپ انتظامیہ نے ایک طرف تو تہران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی ممکنہ معاہدے پر امید کا اظہار کیا ہے لیکن ساتھ ہی یہ انتباہ بھی جاری کیا ہے کہ اگر ایران نے مزاحمت جاری رکھی تو اس پر معاشی دباؤ مزید بڑھا دیا جائے گا۔
ایرانی قیادت کو براہِ راست پیغام دیتے ہوئے امریکی وزیرِ جنگ نے سخت لہجہ اپنایا اور کہا کہ ’یہ کوئی برابری کی جنگ نہیں ہے، ہمیں بخوبی علم ہے کہ آپ کے فوجی اثاثے کہاں ہیں اور آپ انہیں کہاں منتقل کر رہے ہیں۔‘
اس موقعے پر جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے واضح کیا کہ امریکی افواج ’پلک جھپکتے میں‘ بڑی جنگی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی بحریہ کے جہاز ایران کے جھنڈے والے کسی بھی جہاز یا تہران کو مادی مدد فراہم کرنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی جہاز کا پیچھا کریں گے۔
جنرل ڈین کین کے مطابق ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے جہازوں کو روک کر خبردار کیا جائے گا کہ ’اگر آپ نے حکم نہ مانا تو طاقت کا استعمال کیا جائے گا۔‘
جنرل ڈین کین نے مزید بتایا کہ یہ ناکہ بندی ایران کی سمندری حدود اور بین الاقوامی پانیوں، دونوں جگہوں پر نافذ کی جائے گی۔
ان کے مطابق اب تک کل 13 جہاز ناکہ بندی توڑنے کے بجائے واپس مڑنے کا فیصلہ کر چکے ہیں تاہم ابھی تک کسی جہاز پر زبردستی قبضہ (بورڈنگ) نہیں کیا گیا۔

شیئر: