ایران نے جمعے کو یہ اعلان کیا کہ اس نے آبنائے ہُرمز کو تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے لیے مکمل طور پر دوبارہ کھول دیا ہے، تاہم خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ کہا ہے کہ ایرانی جہازوں اور بندرگاہوں کے لیے امریکی ناکہ بندی اس وقت تک ’مکمل طور پر برقرار رہے گی‘ جب تک ایران امریکہ کے ساتھ، خاص طور پر اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے، کوئی معاہدہ نہیں کر لیتا۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر لکھا کہ ’یہ اہم آبی گزرگاہ، جس کے ذریعے دنیا کے قریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے، اب تجارتی جہازوں کے لیے مکمل طور پر کھلی ہے۔‘
یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب اسرائیل اور ایران کے حمایت یافتہ لبنانی گروہ حزب اللہ کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی ہو چکی ہے۔
مزید پڑھیں
صدر ٹرمپ نے ابتدا میں اس پیش رفت کو سراہتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ایران نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز ’آمدورفت کے لیے مکمل طور پر کھلی ہے۔‘ تاہم انہوں نے چند ہی منٹ بعد ایک اور پیغام میں کہا کہ امریکی بحریہ کی ناکہ بندی اس وقت تک جاری رہے گی ’جب تک ایران کے ساتھ ہمارا معاہدہ 100 فیصد مکمل نہیں ہو جاتا۔‘
امریکی صدر ٹرمپ نے رواں ہفتے کے آغاز میں یہ ناکہ بندی اس وقت نافذ کی تھی جب ایران نے لبنان میں جاری لڑائی کے باعث آبنائے ہُرمز میں آمدورفت محدود کر دی تھی، جسے ایران نے امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔

اس وقت صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ یہ ناکہ بندی ’سب کچھ یا کچھ بھی نہیں‘ کی پالیسی کے تحت ہوگی تاکہ ایران پر دباؤ ڈالا جا سکے کہ وہ آبنائے ہُرمز کو دوبارہ کھولے۔
ایران کے آبنانے ہُرمز کھولنے کے اعلان کے باوجود ناکہ بندی جاری رکھنے کا فیصلہ غالباً ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا ہے، کیونکہ گذشتہ ہفتے طے پانے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی کا مستقبل غیریقینی ہے۔
گزشتہ ویک اینڈ پر امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات بھی بے نتیجہ رہے، کیونکہ دونوں ممالک ایران کے جوہری پروگرام اور دیگر امور پر اختلاف رکھتے ہیں۔
ممکنہ معاہدے کی امید پر تیل کی قیمتوں میں کمی آئی۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ نے خبردار کیا تھا کہ اگر آبنائے ہرمز نہ کھلی تو توانائی کا بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ ایران نے جنگ شروع ہونے کے فوراً بعد اس اہم آبی گزرگاہ کو بند کر دیا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو اس بات کی بھی تردید کی کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے میں کسی مالی لین دین کا کوئی کردار ہوگا، جبکہ خبر رساں ادارے ایکسیوس کی ایک رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ واشنگٹن 20 ارب ڈالر کے بدلے یورینیم کے تبادلے پر غور کر رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ ’امریکہ اپنے عظیم بی ٹو بمبار طیاروں سے پیدا ہونے والی تمام جوہری ‘گرد’ حاصل کرے گا اور کسی بھی صورت میں رقم کا کوئی تبادلہ نہیں ہوگا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اس بات پر رضامند ہو گیا ہے کہ وہ آئندہ کبھی آبنائے ہُرمز کو بند نہیں کرے گا۔ ان کے متعدد سوشل میڈیا پیغامات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ قریب ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’ایران اس بات پر متفق ہو گیا ہے کہ وہ آئندہ کبھی آبنائے ہرمز بند نہیں کرے گا اور اسے اب دنیا کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جائے گا۔‘












