مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے ایشیائی ایئرلائنز پر یورپی روٹس کی طلب میں نمایاں اضافہ
مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے ایشیائی ایئرلائنز پر یورپی روٹس کی طلب میں نمایاں اضافہ
پیر 20 اپریل 2026 9:54
ایران جنگ شروع ہونے کے بعد مشرق وسطیٰ کی فضائی حدود میں خلل پڑا (فوٹو: اے ایف پی)
ایشیا کی بڑی ایئرلائنز کا کہنا ہے کہ مسافروں کی جانب سے یورپی روٹس کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جبکہ مشرق وسطیٰ کے روٹس سے گریز کیا جا رہا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ رجحان ایران جنگ ختم ہونے کے بعد بھی کچھ عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے۔
ہانگ کانگ کی کیتھی پیسیفک ایئرویز، سنگاپور ایئرلائنز، کورین ایئرلائنز اور آسٹریلیا کی قنطاس ایئرویز کا کہنا ہے کہ مارچ کے دوران انہوں نے یورپی روٹس پر اچھا بزنس کیا حالانکہ ان کو جیٹ ایندھن کی قیمت میں دو گنا اضافے جیسے چیلنج کا بھی سامنا تھا۔
کیتھی ایئرویز کے چیف کسٹمر آفیسر لیویانا لاؤ کا کہنا ہے کہ ’ہم نے بڑھتی طلب کو پورا کرنے کے لیے مارچ اور اپریل کے دوران یورپ کے لیے اضافی گنجائش رکھی کیونکہ مسافر متبادل راستوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ رواں ماہ کے دوان بھی زیادہ طلب کا سلسلہ جاری رہنے کی امید ہے جس کو ایسٹر کے سفر اور ہانگ کانگ کے راستے گزرنے والی بکنگز سے تقویت مل رہی ہے۔
سنگاپور ایئرلائنز کا کہنا ہے کہ مارچ میں یورپ جانے والی پروازوں کے ٹکٹس کی فروخت کی شرح ساڑھے 93 فیصد تک پہنچا جبکہ ایک سال قبل یہ شرح 79 فیصد تھی اور اس اضافے کی ایک وجہ یورپ جانے والے مسافروں کا سمت تبدیل کرنا بھی ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ کے ہوائی مراکز کے ذریعے دستیاب گنجائش کم ہو گئی۔
رپورٹ کے مطابق مسافر یورپی روٹس کو ترجیح دے رہے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
خلیجی پروازوں کے چیلنجز
ایوی ایشن فرم سیریم کے اعداد و شمار کے مطابق جنگ شروع ہونے سے قبل ایمریٹس، قطر ایئرویز اور اتحاد ایئرویز نے مل کر یورپ اور ایشیا کے درمیان سفر کا تقریباً ایک تہائی حصہ سنبھالا اور یورپ سے آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور بحرالکاہل کے جزائر کے لیے سفر کرنے والے تمام مسافروں میں نصف کو سفر کی سہولت دی۔
فلائٹ ریڈار کے ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ خلیج کی بڑی فضائی کمپنیاں بتدریج اپنی صلاحیت کو بحال کر رہی ہیں اور تینوں بڑی ایئرلائنز کی پروازوں کی تعداد ان اعداد و شمار کے 60 فیصد تک پہنچ چکی ہے جو جنگ شروع ہونے سے قبل موجود تھے۔
تاہم ان کو دیگر مسائل کا مقابلہ بھی کرنا پڑ رہا ہے جیسا کہ آسٹریلیا نے اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ خلیج میں ہوائی سفر نہ کریں اور نہ ہی وہاں جہاز تبدیل کریں، جس کا مطلب ہے کہ وہ ٹریول انشورنس میں شامل نہیں ہے۔
ایران جنگ کی وجہ سے خلیجی ممالک کا فلائٹ آپریشن متاثر ہوا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
لیکن انہیں دوسرے چیلنجوں کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے جیسے کہ آسٹریلیا نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ خلیج میں ہوائی جہاز کا سفر نہ کریں اور نہ ہی تبدیل کریں، یعنی وہ مسافر ٹریول انشورنس میں شامل نہیں ہیں۔
گوگل ٹریول پر دستیاب ڈیٹا کے مطابق اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ مسافروں کو ان پروازوں کو پریمیم فراہم کرنا پڑ رہا ہے جو گلف سے ہو کر نہیں گزرتیں۔
اگلے سنیچر کو روانہ ہونے والی پرواز کے اکانومی کلاس سڈنی لندن ریٹرن ٹکٹس کے لیے اتحاد ایئرویز براستہ ابوظبی سب سے سستا آپشن ہے جس کی قیمت تقریباً ایک ہزار تین سو 33 ڈالر ہے۔