Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

الباحہ میں جونیپر کے درخت ’قومی اثاثہ اور جنگلی حیات کا محفوظ مسکن‘

الباحہ ریجن میں حالیہ دنوں میں ہونے والی بارشوں نے زمین کو سیراب کرنے کے ساتھ عرعر(جونیپر) کے درختوں کو نئی توانائی دی ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اپنی خوشبو، گھنی شاخوں اور سدا بہار پھولوں کے لیے مشہور عر عر کے درخت الباحہ میں جنگلی حیات کا محفوظ مسکن اور ایک قومی اثاثہ ہیں۔
موسم گرما کے قریب آتے ہی قدرتی مناظر نے اس علاقے کو فطرت کے دلدادہ افراد کے لیے ایک پسندیدہ منزل بنا دیا ہے۔
الباحہ میں عرعر کے درخت طویل عرصے سے قدرتی خوبصورتی کی علامت رہے ہیں۔ یہ درخت پہاڑی ڈھلوانوں اور چوٹیوں کو ڈھانپتے ہیں۔ حالیہ بارشوں کے اثر سے یہ درخت وسیع جنگلات کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔
ان درختوں کے پتے بڑے اور گھنے ہوتے ہیں۔ یہ درخت عموما بڑے جھنڈ کی صورت میں اگتے ہیں اور خاص طور پر پہاڑی سلسلے السراۃ کی چوٹیوں پر موجود ہیں۔

یہ درخت، سال بھر جاری رہنے والی دھند کی نمی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ عموماً ان درختوں کی اونچائی 5 سے 10 میٹر کے درمیان ہوتی ہے، کچھ آبی گزر گاہوں کے قریب 30 میٹر تک ہے۔
ماحولیات اور آبی وسائل کے ماہر ڈاکٹر محمد الغامدی کا کہنا ہے کہ عرعر کا درخت السراۃ کے رہائشیوں کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہیں، اس کے متعدد استعمال ہیں۔‘

ان کے مطابق ’ماضی میں اس درخت کی مضبوط اور سخت لکڑی گھروں کی چھتوں، دروازوں، کھڑکیوں اور زرعی آلات کی تیاری میں استعمال ہوتی تھی۔ پہاڑی دروں پر معلق پل بنانے میں بھی ان کا استعمال کیا جاتا تھا۔‘
انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں یہ درخت ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کے لیے اہم قدرتی وسیلہ اور خطے کی تاریخی وراثت کی نمائندگی کرتے ہیں۔

ماحولیات اور آبی وسائل کے ماہر ڈاکٹر محمد الغامدی نے کہا کہ عرعر کے درخت الباحہ ریجن کے جنگلی نباتات کا تقریباً 30 فیصد حصہ ہیں اور یہ پورے علاقے خصوصا بلجرشی، بنی حسن اور المندق کے جنگلات میں پھیلے ہوئے ہیں۔
ان جنگلات کے تحفظ کے لیے نیشنل سینٹر فار ویجیٹیشن ڈیویلیپمنٹ اینڈ کامبیٹنگ ڈیزرٹیشفیکشن کی ٹیمیں مسلسل وزٹ کرتی ہیں تاکہ جنگلات کی نگرانی کے عمل کو موثر بنایا جا سکے۔

شیئر: