Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جنیوا میں امریکہ ایران معاہدے پر دستخط کی تقریب، میزبانی پاکستان کرے گا

وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے طے پانے کا اعلان کیا تھا (فوٹو: اے پی پی)
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ 19 جون کو جنیوا میں امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے پر دستخط کی میزبانی پاکستان کرے گا۔
پیر کو انہوں نے پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے امن مذاکرات میں تعاون کرنے والے ممالک کا شکریہ ادا کیا۔
دوسری جانب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کا گرمجوشی سے خیرمقدم کیا ہے۔
پیر کو اپنے ایکس اکاؤنٹ پر کی گئی ایک پوسٹ میں ان کا کہنا تھا کہ یہ اہم پیش رفت مسلسل سفارتی رابطوں اور دوست ممالک کی اس اجتماعی کوششوں کی عکاس ہے جن میں تصادم کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دی گئی تھی۔
ان کے مطابق ’پاکستانی قیادت اس پیش رفت کو عالمی برادری کے لیے ایک حوصلہ افزا پیغام قرار دیتی ہے، جس سے عیاں ہے کہ مسائل کے حل کے لیے بات چیت اور سفارت کاری ہی بہترین راستہ ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ حکومت سمجھتی ہے کہ یہ سمجھوتہ عالمی منڈیوں اور معیشت کے لیے بھی استحکام لائے گا خصوصی ان ترقی پذیر ممالک کے لیے جو علاقائی عدم استحکام سے بہت متاثر ہوئے۔
انہوں نے لکھا کہ ’پاکستان نے اس عمل کے دوران فریقین کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنے اور تحمل و مذاکرات کے فروغ کی پالیسی اختیار کرنے پر زور دیا کیونکہ تنازعات کے حل کیے صرف اور صرف مکالمہ اور سفارت کاری ہی قابل عمل راستہ ہے۔‘
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ’ہم امریکہ اور ایران دونوں کی قیادت کی جانب سے پاکستان پر کیے گئے اعتماد کو سراہتے ہیں اور ان کی جانب سے امن کے لیے مذاکرات جاری رکھنے کے عزم کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔۔
انہوں نے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی شراکت داروں کا بھی شکریہ ادا کیا جو اس پورے عمل کے درمیان ساتھ رہے اور اہم سنگ میل تک پہنچنے میں مدد دی۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا جیسا کہ اس وقت باقی کے معاملات پر بات چیت ہو رہی ہے تو پاکستان ضمن میں تعاون کے لیے تیار ہے۔
’ہم 19 جون جنیوا میں ہونے والی باقاعدہ دستخط کی تقریب کے منتظر ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ یہ مثبت پیش رفت خطے کو پائیدار امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کی طرف لے جائے گی۔‘
خیال رہے پاکستان اور امریکہ کے درمیان پہلے جنگ بندی اور اب معاہدے تک پہنچنے کے کوششوں میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا۔
اتوار اور پیر کی درمیان شب وزیراعظم شہباز شریف اعلان کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طویل اور اہم مذاکرات کے بعد امن معاہدہ طے پا گیا ہے۔ 
28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ چھڑنے والی جنگ کے اثرات پورے خطے کے علاوہ دنیا بھر پر اس طرح سے پڑے کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے تیل کی تجارت متاثر ہوئی اور اس کی قیمتوں میں بہت اضافہ ہوا جبکہ خلیجی ممالک بھی حملوں کا نشانہ بنے۔
جنگ کے ساتھ ہی ثالثی کے لیے متحرک ہونے والا پاکستان پانچ ہفتے بعد دونوں ممالک میں جنگ بندی کرانے میں کامیاب رہا، جس میں بعدازاں توسیع ہوئی۔
مذاکرات کا ایک دور اسلام آباد میں ہوا تاہم دوسرا نہ ہو پانے کے باوجود بھی ثالثی کی کوششیں جاری رکھی گئیں اور معاملہ امن معاہدے تک پہنچ گیا۔
چند گھنٹے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدہ طے پا جانے کا اعلان کیا تھا جس کی تصدیق ایرانی حکام نے بھی کی۔

شیئر: