ثقافتی روابط کو فروغ دینے کے لیے سعودی اور برطانوی خواتین رہنماؤں کی لندن میں بیٹھک
ملاقات کا انتظام سٹی آف لندن‘ کی لارڈ میئر نے اپنی سرکاری رہائش پر کیا (فوٹو: عرب نیوز)
سعودی عرب اور برطانیہ کی نمایاں حیثیت رکھنے والی خواتین کے ایک گروپ درمیان لندن میں ایک ملاقات ہوئی ہے جس کا موضوع ثقافت، قصہ گوئی اور دونوں کمیونٹیوں کے مابین ثقافتی تبادلوں کو مضبوط کرنا ہے۔
اس ملاقات کا انتظام ’سٹی آف لندن‘ کی لارڈ میئر‘ ڈیم سوزن لینگلے نے اپنی سرکاری رہائش گاہ ’مینشن ہاؤس‘ میں کیا تھا۔ ڈیم سوزن لینگلے کا عہدہ ’میئر آف لندن‘ سے علیحدہ ہے اور زیادہ تر رسمی کہلاتا ہے۔ لندن کے میئر لارڈ صادق خان ہیں جو براہِ راست انتخاب کے ذریعے شہر کے میئر منتخب ہوئے تھے۔
’مینشن ہاؤس‘ میں منعقدہ تقریب میں ثقافت، تعلیم، کاروبار، فنانس، علمی اداروں اور جامعات میں قائدانہ کردار کی حامل خواتین شامل تھیں جن کے سعودی عرب اور برطانیہ کے ساتھ گہرے ذاتی اور پیشہ ورانہ رابطے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق خواتین کی قیادت انتصار الیمانی کر رہی تھیں جو خواتین کے قائدانہ کرادا کے انیشیٹو ’جوہرہ گلوبل‘ اور پُرتعیش طرزِ زندگی کے اعلیٰ برانڈ اور ای کامرس کے پلیٹ فارم ’لیوِش کونسیپٹس‘ کی نمائندگی کر رہی تھیں۔
تقریب کے بعد گفتگو میں ڈیم سوزن لینگلے نے کہا کہ مختلف پس منظروں اور متنوع ثقافتی بیک گراؤنڈ کے افراد کو ایک جگہ اکٹھا کر کے لندن کو طویل عرصے سے فائدہ پہنچا ہے۔
انھوں نے کہا ’اِس باصلاحیت اور جذبے کو مہمیز لگانے والے خواتین کے گروپ کو خوش آمدید کہنا میرے لیے انتہائی مسرت کا باعث تھا۔ اس طرح کا تبادلۂ خیال ہمیں باہمی روابط کی یاد دلاتا ہے۔‘

الیمانی نے اِس موقع پر کہا کہ ایونٹ کے دوران بات چیت سے ثقافت کا وہ کردار اجاگر ہوا ہے جو بین الاقوامی (معاملات کی) سمجھ بوجھ کی تعمیر کرنے میں اہم ہے۔ ’لیڈی میئر سے ملاقات اور اس بات پر گفتگو کہ ثقافت کس طرح لوگوں کو جوڑنے کا کام کر رہی ہے، کسی اعزاز سے کم نہیں۔ مشترکہ اقدار، تخلیقی تبادلے اور لندن جیسے عالمی حیثیت کے شہر میں ثقافتی آگاہی کی اہمیت، ہماری گفتگو کے موضوعات تھے۔‘
شرکا میں ’جوہرہ گلوبل‘ اور ’لیوِش کونسیپٹس‘ کے نمائندوں کے علاوہ اعلٰی تعلیمی ادروں سے منسلک شخصیات، کاروباری افراد اور مواصلات کے شعبے سے تعلق رکھنے والے پروفیشنلز بھی تھے جو اُن انیشیٹیوز میں شامل ہیں جن کا مقصد برطانیہ اور سعودی عرب کے درمیان ثقافتی اور تعلیمی روابط کو مضبوط بنانا ہے۔
یہ ایونٹ اُن وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے جن کا مقصد دونوں ممالک کی ایسی خواتین کے درمیان مکالمے اور تعاون کو فروغ دینا ہے جو مختلف شعبوں میں قائدانہ کردار ادا کر رہی ہیں جن میں فنون، تعلیم اور کاروبار بھی شامل ہے۔
ڈیم سوزن لینگلے تیسری خاتون ہے جنھیں ’لندن شہر کی لارڈ میئر‘ کا خطاب ملا ہے لیکن وہ پہلی ایسی خاتون بھی ہیں جنھوں نے ’لیڈی میئر‘ کا ٹائیٹل اختیار کیا ہے۔ اُن کے عہدے کی معیاد ایک برس ہے جس میں انھوں نے عالمی روابط اور ثقافتی تعاون کو اپنے سرکاری منصب کے دوران کلیدی موضوعات بنایا ہے۔
