Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکی پابندیوں میں نرمی کے باعث انڈیا کی روسی تیل کی درآمدات ریکارڈ سطح پر

امریکی پابندیوں میں نئی رعایت کے بعد روس کی انڈیا کو تیل کی فروخت اپریل اور مئی میں ریکارڈ سطح کے قریب رہنے کی توقع ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق تاجروں کا کہنا ہے کہ ریفائنریوں نے پہلے ہی اپنی زیادہ تر ضرورت ان اداروں اور جہازوں کے ذریعے پوری کر لی ہے جن پر پابندیاں نہیں لگی ہیں، جبکہ منگل کو جاری ہونے والے اعداد و شمار بھی اسی کی تصدیق کرتے ہیں۔
انڈیا کی روس سے بڑی مقدار میں تیل درآمدات ماسکو کو یوکرین جنگ کے لیے فوجی اخراجات کے دباؤ کے باوجود اپنے سرکاری خزانے کو دوبارہ بھرنے میں مدد دیں گی۔
مارچ میں انڈیا نے روس سے یومیہ 2.25 ملین بیرل تیل درآمد کیا، جو ایک ریکارڈ ہے اور فروری کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہے، جس سے روسی تیل اس کی کل درآمدات کا 50 فیصد بن گیا۔
شپنگ تجزیاتی کمپنی کپلر کے مطابق 20 سے 27 اپریل کے ہفتے میں انڈین بندرگاہوں پر روسی خام تیل کی آمد 2.1 ملین بیرل یومیہ تک پہنچنے کا امکان ہے، جو پچھلے ہفتے کے 1.67 ملین بیرل یومیہ سے زیادہ ہے۔
دو ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ اپریل کے وسط میں روسی تیل کی سپلائی میں کمی ممکنہ طور پر مارچ کے آخر میں یوکرینی ڈرون حملوں کے باعث روسی بندرگاہوں پر برآمدی خلل کی وجہ سے ہوئی۔
تیل کی تجارت سے وابستہ تین ذرائع نے بتایا کہ توقع ہے کہ پورے مہینے میں روسی سپلائی اوسطاً 2 ملین بیرل یومیہ سے زیادہ رہے گی اور مئی میں بھی اسی سطح پر برقرار رہنے یا مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
واشنگٹن نے مارچ کے وسط مختلف ممالک کو پابندیوں کے باوجود روسی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات خریدنے کے لیے 30 دن کی رعایت دی تھی تاکہ ایران کے ساتھ جنگ کے باعث متاثر ہونے والی عالمی توانائی منڈی کو مستحکم کیا جا سکے۔ گذشتہ ہفتے اس رعایت کی تجدید بھی کر دی گئی۔
تاجروں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کے باوجود، جن کا مقصد ماسکو کو کیف کے ساتھ امن معاہدے پر مذاکرات کے لیے دباؤ میں لانا ہے، روسی تیل کی انڈیا کو فراہمی سپلائی چین میں شامل پابندی کا شکار نہ ہونے والے اداروں کے ذریعے جاری رہی ۔
تاجروں کے مطابق انڈین ریفائنریاں رعایت میں توسیع کے اعلان سے پہلے ہی اپریل میں روسی تیل خرید رہی تھیں اور مئی کی ترسیل کے لیے زیادہ تر مقدار گذشتہ ہفتے ہی محفوظ کر لی تھی۔
انڈیا کی ریفائنریاں مئی میں پہنچنے والی روسی تیل کی کھیپ کے لیے برینٹ کے مقابلے میں فی بیرل 7 سے 9 ڈالر اضافی قیمت ادا کر رہی ہیں، جو اپریل کی درآمدات کے برابر ہے۔
انڈیا نے حال ہی میں ان روسی انشورنس کمپنیوں کی تعداد بڑھا دی ہے جو اس کی بندرگاہوں پر آنے والے جہازوں کو سمندری انشورنس فراہم کر سکتی ہیں، جس کے مطابق اب یہ تعداد 8 سے بڑھ کر 11 ہو گئی ہے۔

شیئر: