سعودی عرب میں انٹیکچوئل رائٹس کے تحفظ کے لیے گائیڈ کا اِجرا
گائیڈ،عوام کے لیے اتھارٹی کی سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب ہے (فوٹو: ایس پی اے)
دانشورانہ ملکیت کے لیے قائم سعودی اتھارٹی نے وزارتِ ثقافت اور ہیریٹِج کمیشن کے ساتھ مل کر دستکاری کے شعبے میں دانشورانہ حقوق( انٹیکچوئل رائٹس) کے تحفظ کے لیے ایک گائیڈ کا اِجرا کیا ہے۔
اس گائیڈ کا مقصد، جس میں رہنما اصول درج ہیں، قانونی معلومات کی فراہمی سے کاریگروں اور ہنر مندوں میں آگاہی پیدا کرنا ہے جس کی مدد سے مستند قومی ورثے سے تحریک حاصل کر کے وہ نِت نئی چیزوں اور ڈیزائنوں کی قانونی طور پر حفاظت کر سکیں۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اتھارٹی نے تشریح کرتے ہوئے کہا کہ’ یہ گائیڈ، قواعد و ضوابط اور قانون سازی کو لوگوں کے سامنے لائے گی جس سے فنکاروں کے حقوق کو تحفظ کی ضمانت مل جائے گی۔‘
اتھارٹی کا گائیڈ کے بارے میں یہ بھی کہنا ہے کہ ’اِس سے کاریگروں کو قانونی تحفظ بھی حاصل ہو گا جس سے وہ روایتی طریقوں کے استعمال سے کی گئی دستکاری کو محفوظ بناتے ہوئے اِسے معاشی اثاثوں میں تبدیل کر سکیں گے۔‘
گائیڈ، عوام کے لیے اتھارٹی کی سرکاری ویب سائٹ (www.saip.gov.sa) پر اِس شعبے میں کام کرنے والوں کے لیے بنیادی حوالے کے طور پر دستیاب ہے۔
گائیڈ میں ٹریڈ مارک کو رجسٹر کرانے، صنعتی ڈیزائن، کاپی رائٹ اور پیٹنٹس وغیرہ کے لیے بھی جامع رہنمائی موجود ہے جس کا تعلق دستکاری کی پروڈکٹس سے ہے۔

جن میں ٹیکسٹائل، کھجور کے تنوں اور پتوں سے بنی اشیا، لکڑی کا کام، چمڑے کی چیزیں، مٹی کے برتن، کشیدہ کاری، دھاتوں سے متعلق کام، روایتی تعمیراتی میٹیریل، تسبیح سازی اور دیگر اشیا شامل ہیں۔
یہ گائیڈ، دانشورانہ ملکیت کے لیے قائم سعودی اتھارٹی اور وزارتِ ثقافت کے مابین جاری تعاون کا نتیجہ ہے اور ’سعودی وژن 2030‘ کے مقاصد کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ ہے جس میں قومی معیشت کی ترقی کے لیے تخلیقی صنعتوں کی کوششوں میں اضافہ کر کے معاشی نشو و نما میں تیزی لانا ہے۔
اِس اقدام سے دانشورانہ ملکیت کی اتھارٹی کا مقصد فِکری ملکیت کے نظام کو مقامی اور بین الاقوامی سطح پر طاقتور بنانا ہے اور اس سے متعلق آگاہی میں اضافہ کرنا بھی ہے۔
اس کوشش سے ریت و رواج اور ورثے کے ہنر کو محفوظ کرنے میں مدد ملے گی اور حقوق کی تلفی، قانون کی خلاف ورزی سے بچاؤ حاصل ہوگا بلکہ ایسے ماحول کو فروغ حاصل ہوگا جو قومی تخلیق اور جدت و اختراع کی حوصلہ افزائی کرے گا۔
