سعودی کابینہ: عازمین حج کی مملکت آمد کا خیرمقدم، مثالی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان جانب سے دنیا بھر سے آنے والےعازمین حج کا خیرمقدم کیا اور ان کی خدمت کے لیے ہرممکن سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
سعودی خبررساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق کابینہ کا اجلاس منگل کو جدہ میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت ہوا ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ولی عہد نے حج سیزن کو کامیاب بنانے کےلیے تمام صلاحیتیں اور وسائل بروئے کار لانے، مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، مشاعر مقدسہ، بری، فضائی اور بحری چیک پوسٹوں پرعازمین کو بہترین اور مثالی سہولتوں کی فراہمی پر زور دیا۔
ولی عہد نے کابینہ کو چینی صدر سے ٹیلی فونک رابطے، سوڈان کی عبوری کونسل کے چیئرمین عبدالفتاح البرھان، پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف اور یورپی کونسل کے صدر سے ہونے والی ملاقاتوں کے بارے میں آگاہ کیا۔
وزیر اطلاعات سلمان الدوسری نے ایس پی اے کو بتایا ’اراکین کابینہ نے خطے اور عالمی سطح پر درپیش چیلنجز اور بین الاقوامی سلامتی و امن کے حصول کےلیے مملکت کی جانب سے اجلاسوں میں شرکت اور ان کے نتائج پر تبادلہ خیال کیا۔‘
کابینہ نے آبنائے ہرمز کی بندش اور جہاز رانی کے حوالے سے پیش رفت کا بھی جائزہ لیا، اس بات کی تصدیق کی کہ توانائی کے تحفظ اور متبادل برآمدی راستوں میں مملکت کی دہائیوں پر محیط سرمایہ کاری نے اس کی صلاحیتوں کو مضبوط بنایا ہے۔

جس کے باعث وہ خطے میں پیش آنے والے جیو سیاسی واقعات، کشیدگی اور ان کے عالمی سپلائی چینز پر اثرات کے باوجود مشکل ترین حالات میں بھی دنیا کو توانائی کی فراہمی میں مدد دینے کے قابل ہے۔
اراکین کابینہ نے ملکی امور کے حوالے سے بھی مختلف موضوعات پر بحث کی، جن میں پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کی 5 سالہ حکمت عملی کے اجرا کا خیرمقدم کیا گیا، جو وژن 2030 کے تیسرے مرحلے کے مطابق ہے۔
اجلاس نے سال 2025 میں نان آئل برآمدات کی تاریخی کارکردگی کو سراہا جس میں 2024 کے مقابلے میں 15 فیصد سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
کابینہ نے ایجنڈے میں شامل مختلف موضوعات کا جائزہ لیا، جن میں شوری کونسل کی جانب سے پیش کی گئی سفارشات شامل تھیں۔

اجلاس کے اختتام میں مختلف ممالک کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کرنے کی منظوری دی گئی جبکہ رواں برس حج سیزن کے لیے عارضی طور پر درآمد کیے جانے والے غیرملکی کارکنوں کی ویزا فیس حکومت کی جانب سے برداشت کیے جانے والے فیصلے کو جاری رکھنے کی منظوری دی گئی۔
مملکت کے مالی سال کے آغاز کے حوالے سے پیش کی جانے والی ترمیم کی منظوری دی گئی، جس کے مطابق مالی سال کا آغاز یکم جنوری سے جبکہ اختتام 31 دسمبر کو کیا جائے گا۔
