Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’طبی سنگ میل‘: ریاض میں باہم جڑی فلپینی بچیوں کی پیچیدہ سرجری کامیاب

ریاض کے ہسپتال مں آپریشن 12 گھنٹے 45 منٹ تک جاری رہا ( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی کونجوئنڈ ٹوئنز پروگرام کی سپیشلائزڈ میڈیکل اور سرجیکل ٹیم نے باہم جڑی فلپائنی بچیوں ’کلیا اور موریس این‘ کو انتہائی پیچیدہ سرجری میں علیحدہ کرکے ایک نیا طبی سنگ میل عبور کیا ہے۔
ریاض کے کنگ عبداللہ سپیشلائزڈ چلڈرن ہسپتال میں کامیاب آپریشن کیا گیا۔ اس آپریشن کو دنیا کی اپنی نوعیت کی پیچیدہ سرجریوں میں سے ایک سمجھا جا رہا تھا۔ 
شاہ سلمان مرکز کے سپروائزر اور سعودی کونجوئنڈ ٹوئنز پروگرام کی میڈیکل ٹیم کے سربراہ ڈاکٹرعبداللہ الربیعہ نے بتایا ’سرجیکل ٹیم نے 12 گھنٹے 45 منٹ کی سرجری کے بعد دونوں بچیوں کو کامیابی کے ساتھ ایکدوسرے سے الگ کیا۔‘
’اس کے بعد آپریشن کے دیگر مراحل مکمل کیے جائیں گے، جس میں پلاسٹک سرجری شامل ہے۔‘
انہوں نے بتایا ’میڈیکل ٹیم 30 افراد پر مشتمل ہے، جس میں کنسلٹنٹ کے علاوہ نرسنگ اور ٹیکنیکل سٹاف، اینستھیزیا، انتہائی نگہداشت، جدید ریڈیو لوجی اور پلاسٹک سرجری کے ماہرین شامل ہیں۔‘

ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے مزید کہا کہ ’یہ فلپائن سے باہم جڑے ہوئے بچوں کا تیسرا آپریشن ہے۔‘
یہ بچے، پہلی مرتبہ 17 مئی 2025 مملکت پہنچے تھے، تفصیلی طبی معائنے نے، ان کے کیس کی پیچیدہ نوعیت کو اجاگر کیا۔
 یہ کئی طبی عوامل کی وجہ سے اہم تھا، جن میں بچوں کے ایکدوسرے سے جڑے سروں کا پیچیدہ زاویہ، دماغی وینس سائنوس کا وسیع اشتراک اور دماغی ٹیشوز کا اوور لیپ ہونا شامل ہیں۔
یاد رہے کہ سعودی کونجوئنڈ ٹوئنز پروگرام کا آغاز 1990 میں کیا گیا تھا۔
پروگرام کے تحت اب تک پانچ براعظموں کے 28 ممالک کے 157 کیسز کا جائزہ لیا گیا جن میں 70 جڑے ہوئے بچوں کو کامیابی سے الگ کیا گیا۔ انہیں مکمل دیکھ بھال فراہم کی جس میں نفسیاتی، سماجی اور تعلیمی مدد بھی شامل ہے۔

 

شیئر: