Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایرانی وفد اسلام آباد میں، ’امریکی حکام سے ملاقات نہیں کریں گے‘

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے اسلام آباد میں ایرانی و امریکی حکام کے درمیان ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں، پاکستانی حکام کو ایران کے مشاہدات پہنچائے جائیں گے۔
سنیچر کی صبح اسماعیل بقائی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’ہم ایک سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔ وزیر خارجہ عباسی عراقچی پاکستان کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کریں گے جو امریکہ کی جانب سے مسلط کی گئی جارحیت پر مبنی جنگ کے خاتمے اور ہمارے خطے میں امن کی بحالی کے لیے جاری ثالثی اور سفارتی کوششوں کے تناظر میں ہو گی۔‘

 

اس سے آگے انہوں نے لکھا کہ ’ایران اور امریکہ کے نمائندوں کے درمیان کسی بھی ملاقات کی کوئی منصوبہ بندی موجود نہیں اور ایران کے موقف کو پاکستان کے ذریعے پہنچایا جائے گا۔
ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان کی یہ پوسٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اسلام آباد میں ہیں اور کل رات ہی پہنچے ہیں۔
پاکستانی دفترِ خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے نُور خان ایئربیس راولپنڈی آمد پر ایرانی وزیر خارجہ اور اُن کے وفد کے ارکان کا استقبال کیا۔
بعد ازاں پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ ’فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ اپنے بھائی ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کر کے خوشی محسوس ہوئی۔‘ 
28 فروری کو ایران امریکہ جنگ شروع ہونے کے ساتھ ہی مذاکرات کی کوششوں کے لیے متحرک ہونے والے پاکستان کو پہلی کامیابی پانچ ہفتے عاضی جنگ بندی کی صورت میں ملی تھی، جبکہ اس کے بعد اپریل کے پہلے عشرے میں اسلام آباد میں مذاکرات کا انتظام کروایا، جس میں فریقین نے شرکت کی۔
تاہم یہ مذاکرت کسی نتیجے تک پہنچے بغیر ختم ہو گئی تھی اور دونوں ممالک کے درمیان صورت حال گھمبیر ہو گئی تھی کیونکہ جنگ بندی ختم ہونے والی تھی۔
تاہم بدھ ڈیڈلائن ختم ہونے کے موقع پر صدر ٹرمپ نے اس میں توسیع کا اعلان کیا۔
اس وقت پاکستان میں مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاری ہو رہی ہے ایرانی وفد پہنچ چکا ہے جبکہ امریکی وفد آج پہنچ رہا ہے۔

 

شیئر: