پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی ایک کوشش کو ناکام بناتے ہوئے پولیس نے ٹریفک سگنل سسٹم سے منسلک قیمتی ڈیوائس چوری کرنے والے ایک گروہ کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
حکام کے مطابق چار ملزموں کو حراست میں لے کر چوری ہونے والا آلہ بھی برآمد کر لیا گیا ہے، جب کہ اس کیس کو شہری سکیورٹی اور سمارٹ سٹی نگرانی کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
کراچی پولیس کے مطابق یہ واقعہ شہر کے ایک اہم اور حساس علاقے میں پیش آیا، جہاں ٹریفک مینجمنٹ سسٹم کا حصہ بننے والا ایک ڈیوائس باکس نامعلوم افراد نے چوری کر لیا تھا۔
مزید پڑھیں
-
اسلام آباد سے جرمن سیاح کی چوری ہونے والی سائیکل کیسے ملی؟Node ID: 902554
ابتدائی طور پر یہ ایک معمولی چوری کا واقعہ محسوس ہوا، تاہم بعد ازاں حکام نے اسے شہری انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانے کی منظم کوشش کے طور پر دیکھا۔
پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ اطلاع ملنے کے فوری بعد تفتیش کا باقاعدہ آغاز کیا گیا اور جائے وقوعہ کے ساتھ ساتھ اطراف میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کا ریکارڈ حاصل کیا گیا۔ ان ویڈیوز کے تجزیے سے مشتبہ افراد کی نقل و حرکت کا سراغ ملا، جس کے بعد تفتیش کا دائرہ وسیع کیا گیا۔
سیف سٹی سسٹم اور جدید نگرانی کا کردار
حکام کے مطابق اس کیس کی تفتیش میں کراچی سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت دستیاب نگرانی کے نظام نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت شہر کے مختلف حصوں میں نصب کیمروں اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹمز سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو پولیس نے استعمال کیا، جس سے ملزموں کی شناخت اور ان کی نقل و حرکت کو ٹریس کرنا ممکن ہوا۔

ماہرین کے مطابق دنیا بھر کے بڑے شہروں میں سیف سٹی ماڈلز کے ذریعے جرائم کی روک تھام اور فوری ردعمل کو بہتر بنایا جا رہا ہے، اور کراچی میں اس نوعیت کے کیسز میں اس نظام کا استعمال ایک مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
چار ملزم گرفتار، ایک مفرور
تفتیشی حکام کے مطابق خفیہ معلومات اور تکنیکی نگرانی کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے چار ملزموں کو گرفتار کیا گیا، جن کی شناخت فرحان، شان، صدر علی اور ثناء اللہ کے نام سے ہوئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزموں کو مختلف مقامات پر چھاپوں کے دوران حراست میں لیا گیا۔
رشید علی نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’دورانِ تفتیش ملزمان نے اعتراف کیا کہ انہوں نے ٹریفک سگنل ڈیوائس باکس کو پول سے اتار کر چوری کیا تھا۔‘
ان کے مطابق ملزموں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ چوری شدہ سامان کو فروخت کرنے کے لیے ایک اور ساتھی کی مدد لی گئی، جس کی شناخت منڈری کے نام سے ہوئی ہے اور وہ تاحال مفرور ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مفرور ملزم کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں اور امید ہے کہ جلد اسے بھی حراست میں لے لیا جائے گا۔
شہری نظام کے لیے خطرہ کیوں؟
ماہرین کے مطابق ٹریفک سگنل سسٹم جیسے حساس شہری آلات کی چوری صرف مالی نقصان تک محدود نہیں رہتی بلکہ یہ شہری نظم و نسق اور سڑکوں کی حفاظت کو بھی متاثر کرتی ہے۔ ایسے آلات کی غیر موجودگی ٹریفک کی روانی میں خلل ڈال سکتی ہے اور حادثات کے خطرات میں اضافہ کر سکتی ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بھی شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے واقعات کو سکیورٹی کے بڑے خطرات میں شمار کیا جاتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب شہر سمارٹ ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل سسٹمز پر زیادہ انحصار کر رہے ہیں۔
چوری شدہ آلہ برآمد، نظام بحال کرنے کی تیاری
پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران چوری ہونے والا ٹریفک سگنل ڈیوائس باکس برآمد کر لیا گیا ہے، جو شہر کے ٹریفک کنٹرول سسٹم کا ایک اہم حصہ ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ برآمد شدہ آلہ متعلقہ اداروں کے حوالے کیا جائے گا تاکہ اسے دوبارہ نصب کر کے ٹریفک نظام کو معمول پر لایا جا سکے۔
جدید تفتیشی طریقے اور پیش رفت
پولیس کے مطابق اس کیس میں روایتی تفتیشی طریقوں کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور انٹیلی جنس معلومات کا بھی استعمال کیا گیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج، تکنیکی ٹریکنگ اور ڈیٹا اینالیسز کے امتزاج نے ملزموں تک پہنچنے میں اہم کردار ادا کیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ ابتدائی طور پر چوری کے وقت اور چوری شدہ سامان کی فروخت کے مقام کے بارے میں مکمل معلومات دستیاب نہیں تھیں، تاہم مسلسل نگرانی اور شواہد کے تجزیے سے کیس کو حل کیا گیا۔
شہری منصوبہ بندی کے ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے واقعات ترقی پذیر ممالک کے بڑے شہروں میں ایک ابھرتا ہوا چیلنج ہیں، جہاں تیزی سے پھیلتے ہوئے شہری ڈھانچے کے ساتھ سکیورٹی کے تقاضے بھی بڑھ رہے ہیں۔ ایسے میں سیف سٹی منصوبے اور ڈیجیٹل نگرانی کا نظام نہ صرف جرائم کی روک تھام بلکہ فوری ردعمل میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
اربن پلاننگ پر کام کرنے والے آرکیٹیکٹ راحیل نوشاد کا کہنا ہے کہ ‘کراچی میں پیش آنے والا یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شہری انفراسٹرکچر کو محفوظ بنانے کے لیے ٹیکنالوجی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی ضروری ہے۔‘
حکام کے مطابق ٹریفک سگنل ڈیوائس کی چوری کا یہ کیس جہاں ایک طرف شہری سکیورٹی کے لیے درپیش خطرات کو اجاگر کرتا ہے، وہیں دوسری جانب جدید نگرانی کے نظام اور بروقت پولیس کارروائی کی افادیت بھی ثابت کرتا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مزید تفتیش جاری ہے اور اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا گرفتار ملزم کسی بڑے نیٹ ورک کا حصہ ہیں یا نہیں، جب کہ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ مشتبہ سرگرمیوں کی فوری اطلاع دے کر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ساتھ دیں۔












