Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اسلام آباد پہنچ گئے، امریکی وفد آج پاکستان روانہ ہو گا

رپورٹ کے مطابق یہ دورہ امریکہ کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے دوسرے دور کے تناظر میں ہو رہا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی تین ملکی دورے کے پہلے مرحلے میں جمعے کی رات اسلام آباد پہنچ گئے، وہ پاکستانی قیادت کے ساتھ خطے کی صورتِ حال اور آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کریں گے۔
پاکستانی دفترِ خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے نُور خان ایئربیس راولپنڈی آمد پر ایرانی وزیر خارجہ اور اُن کے وفد کے ارکان کا استقبال کیا۔
بعد ازاں پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر کہا کہ ’فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ اپنے بھائی ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کر کے خوشی محسوس ہوئی۔‘ 
اپنے ’ایکس‘ پر انہوں نے مزید لکھا کہ ’ہم توقع کرتے ہیں کہ ہماری بامعنی بات چیت علاقائی امن اور استحکام کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہو گی۔ُ

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ’ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی دورۂ پاکستان کے دوران پاکستانی قیادت کے ساتھ علاقائی پیش رفت اور خطے میں استحکام اور سلامتی کے لیے جاری کوششوں پر تبادلہ خیال کریں گے۔‘
پاکستانی کے سرکاری ٹی وی کے مطابق یہ دورہ امریکہ کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے دوسرے دور کے تناظر میں ہو رہا ہے جس کے لیے سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق امریکی سکیورٹی اور لاجسٹک ٹیم پہلے ہی پاکستان پہنچ چکی ہے جو متوقع مذاکرات کے انتظامات میں مصروف ہے۔
سٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کُشنر سنیچر کو اسلام آباد روانہ ہوں گے: وائٹ ہاؤس
دوسری جانب ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولین لیویٹ نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر کے خصوصی ایلچی برائے مشرق وسطیٰ سٹیو وِٹکوف اور ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کُشنر ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کے لیے سنیچر کو پاکستان روانہ ہوں گے۔​
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے امریکی ٹی وی ’فاکس نیوز‘ کو بتایا کہ ’میں اس بات کی تصدیق کر سکتی ہوں کہ سٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کُشنر ایرانی نمائندوں سے مذاکرات کے لیے دوبارہ پاکستان جا رہے ہیں۔‘

صدر ٹرمپ ایرانی وزیر خارجہ سے مذاکرات کے لیے سٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کُشنر کو اسلام آباد بھیج رہے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

کیرولین وائٹ کا مزید کہنا تھا کہ ’نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان جانے کے لیے تیار ہیں لیکن فی الحال نہیں، اگر ضروری ہوا تو ہر کوئی پاکستان جانے کے لیے تیار ہو گا۔‘
اس سے قبل ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے بتایا تھا کہ ’وزیر خارجہ عباس عراقچی تین ملکی دورے کے پہلے مرحلے میں جمعے کو اسلام آباد پہنچیں گے، بعد ازاں وہ مسقط اور ماسکو جائیں گے۔‘
’ایرانی وزیر خارجہ کے دورے کا مقصد دو طرفہ مشاورت کرنا، خطے میں جاری پیش رفت پر تبادلہ خیال اور ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے مسلط کردہ جنگ کے حوالے سے تازہ ترین صورتِ حال کا جائزہ لینا ہے۔‘
تین ملکی دورے کا بروقت آغاز کر رہا ہوں: عباس عراقچی
تین ملکی دورے پر روانہ ہونے سے قبل ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر مختصر بیان جاری کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میں تین ملکی دورے کا بروقت آغاز کر رہا ہوں، ہمارے ہمسایہ ممالک ہماری ترجیح ہیں۔‘
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق ’دورے کا مقصد شراکت داروں کے ساتھ علاقائی پیش رفت کے حوالے سے مشاورت کرنا ہے۔‘

آبنائے ہُرمز کی ناکہ بندی کے معاملے پر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

نائب وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سے ایرانی وزیر خارجہ کا رابطہ
جمعے کو ہی ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان روانہ ہونے سے قبل نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ٹیلی فونک رابطہ کیا تھا جس میں خطے کی تازہ صورت حال اور جاری سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے  بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے جنگ بندی، علاقائی پیش رفت اور امریکہ و ایران کے درمیان ممکنہ روابط کے تناظر میں اسلام آباد کی سفارتی کوششوں پر بات چیت کی۔
اس موقع پر اسحاق ڈار نے باقی ماندہ مسائل کے حل کے لیے مسلسل مکالمے اور رابطوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے یہ عمل ناگزیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس ضمن میں پاکستان کے تعمیری اور مستقل کردار کو سراہا اور دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔
خیال رہے کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کی سفارتی کوششوں میں ایک اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق ’فی الحال نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان کے دورے پر جانے والے وفد کا حصہ نہیں ہیں‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

تاہم 12-11 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے پہلے طویل مذاکراتی دور کے بعد پیش رفت تعطل کا شکار دکھائی دیتی ہے۔
ابتدائی مذاکرات کے بعد ایران نے دوسرے دور کے لیے اپنا وفد اسلام آباد بھیجنے پر آمادگی ظاہر نہیں کی تھی جس سے سفارتی عمل کی رفتار متاثر ہوئی۔
اسلام آباد میں ہونے والے پہلے مرحلے کے مذاکرات میں پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان پُل کا کردار ادا کیا تھا جہاں دونوں ممالک کے اعلٰی سطح کے وفود نے بالواسطہ اور محدود سطح پر بات چیت کی۔
تاہم حالیہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ فریقین کے درمیان اختلافات بدستور موجود ہیں جس کے باعث دوسرے مرحلے کے مذاکرات کے انعقاد پر غیریقینی صورت حال برقرار ہے۔
دوسری جانب پاکستان نے عِندیہ دیا ہے کہ وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنا سہولت کاری کا کردار جاری رکھے گا، تاہم مذاکرات کی کامیابی کا انحصار فریقین کی آمادگی پر ہوگا۔

شیئر: