خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقے میں آپریشن، 22 عسکریت پسند ہلاک: آئی ایس پی آر
خیبرپختونخوا کے سرحدی علاقوں میں پہلے بھی فوج اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہی ہیں (فوٹو: آئی ایس پی آر)
پاکستان کی فوج نے کہا ہے کہ صوبہ خیبرپختونخوا میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ہونے والی کارروائی میں 22 عسکریت ہلاک ہو گئے جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں ایک بچہ بھی زد میں آیا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جمعے کو فوج کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں بتایا گیا ہے کہ ’منگل کو قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے ضلع خیبر میں ایک مشترکہ آپریشن کیا گیا جس میں شدید فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں عسکریت پسند مارے گئے۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان کی سرحد کے قریبی علاقے میں ہونے والے فائرنگ کے اس تبادلے میں ایک 10 سالہ بچہ بھی زد میں آ کر جان سے گیا۔
وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے کیے گئے کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے ’دہشت گردوں کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں 10 سالہ بچے کی شہادت پر‘ دکھ کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان کے کئی علاقوں میں ہونے والے حملوں کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) قبول کرتی رہی ہے جبکہ ایسے حملوں کا سلسلہ حالیہ برسوں کے دوران خصوصاً افغانستان سے متصل علاقوں میں بڑھا ہے۔
سنہ 2021 میں افغان طالبان کی جانب سے دوبارہ ملک کا کنٹرول سنبھالے جانے کے بعد سے پاکستان افغانستان پر الزام لگاتا آیا ہے کہ اس کے ہاں ان عسکریت پسندوں کی پناہ گاہیں موجود ہیں جو پاکستان میں کارروائیاں کرتے ہیں، تاہم کابل اس کی مسلسل تردید کرتا رہا ہے۔
پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات اور پڑوسی ممالک کے دعوؤں کے باعث ان کے تعلقات خراب ہوتے گئے اور سرحد پر باقاعدہ جھڑپیں شروع ہوئیں۔
پاکستان کی فوج نے رواں برس افغانستان کے خلاف حملوں کی ایک لہر شروع کی تھی جس کو وزیر دفاع خواجہ آصف نے ’کھلی جنگ‘ قرار دیا تھا۔
پاکستان کے صوبوں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان کی صورت حال کافی خراب رہی ہے اور زیادہ تر دہشت گردی کے واقعات بھی وہیں پر ہوتے رہے ہیں اور یہ دونوں صوبے ہی افغانستان کے ساتھ لگتے ہیں۔
ایک روز قبل ہی صوبہ بلوچستان میں نامعلوم عسکریت پسندوں نے تانبے اور سونے کے ایک مائننگ منصوبے پر حملہ کیا جس میں نجی کمپنی کے ملازمین سمیت 10 افراد ہلاک ہوئے۔
بعدازاں حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ مرنے والوں میں ایک غیر ملکی باشندہ بھی شامل تھا۔
واقعے کے بعد حکام کا کہنا تھا کہ یہ حملہ شام کے وقت ضلع چاغی کے ضلعی ہیڈکوارٹر دالبندین سے قریباً 120 کلومیٹر دور علاقے دریگون میں واقع نیشنل ریسورسز لمیٹڈ (این آر ایل) کی مائننگ سائٹ پر کیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں میں سوار 40 سے زائد مسلح افراد نے سائٹ پر مختلف اطراف سے حملہ کیا۔ چھوٹے ہتھیاروں کے استعمال کے علاوہ راکٹ کے گولے بھی داغے۔
