اسلام آباد مذاکرات، سرکاری ملازمین کا ’ورک فرام ہوم‘ یا غیراعلانیہ چُھٹی؟
اسلام آباد مذاکرات، سرکاری ملازمین کا ’ورک فرام ہوم‘ یا غیراعلانیہ چُھٹی؟
ہفتہ 25 اپریل 2026 5:52
صالح سفیر عباسی -اردو نیوز، اسلام آباد
ایران امریکہ متوقع مذاکرات کے باعث کئی روز سے اسلام آباد مکمل طور پر بند ہے اور ملازمین کو ’ورک فرام ہوم‘ کا کہا گیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
’سرکاری سطح پر 'ورک فرام ہوم' کا حکم تو آیا، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ سہولتوں کے فقدان، نامناسب ماحول اور کسی مربوط سسٹم کی عدم موجودگی کے باعث یہ تجربہ ہمارے لیے محض چھٹی ہی ثابت ہوا ہے۔‘
یہ الفاظ ایک وفاقی سرکاری ملازم کے ہیں، جنہوں نے حکومت کی جانب سے 'ورک فرام ہوم' کی ہدایت کے بعد درپیش صورتحال اور دفتری نظام میں موجود رکاوٹوں پر اردو نیوز سے خصوصی گفتگو کی۔
وزارت کے ذیلی ادارے میں اکاؤنٹس برانچ سے وابستہ اس ملازم کے مطابق، ان کے محکمے کا ایک بڑا حصہ گھروں سے کام کرنے سے قاصر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دفتری امور کی مخصوص نوعیت اور فزیکل فائلنگ کی ضرورت کی وجہ سے عملے کا دفتر جانا ضروری ہے۔
پاکستان کی وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان متوقع مذاکرات کے پیش نظر سکیورٹی خدشات کے باعث ریڈ زون میں واقع تمام سرکاری دفاتر کو 'ورک فرام ہوم' پر منتقل کیا ہے۔
تاہم اب اصل سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ کیا سرکاری ملازمین واقعی گھروں سے دفتری امور نمٹا رہے ہیں یا 'ورک فرام ہوم' کا یہ تجربہ محض ایک 'غیر اعلانیہ تعطیل' ثابت ہوا ہے؟
واضح رہے کہ گزشتہ عرصے میں وفاقی حکومت نے سرکاری اداروں میں 'ای آفس' کے نفاذ کے لیے سخت اقدامات کیے تھے۔
رواں ماہ کے پہلے عشرے کے دوران بھی مذاکرات کی وجہ سے اسلام آباد بند اور ملازمین ورک فرام ہوم پر رہے (فوٹو: اے ایف پی)
سرکاری رپورٹس کے مطابق 40 سے زائد وفاقی وزارتوں میں ای آفس کا بنیادی ڈھانچہ نصب کیا جا چکا ہے جو نہ صرف دفاتر بلکہ 'ورک فروم ہوم' کے لیے بھی موزوں ہے اور کئی سرکاری ادارے اس سسٹم کے ذریعے کام کر بھی رہے ہیں۔
تاہم، 'ورک فرام ہوم' کے حالیہ تجربے نے یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ وفاقی وزارتوں کے محض چند شعبے یا جزوی امور ہی آن لائن منتقل ہو سکے ہیں۔
وہ ملازمین جو تاحال اس ڈیجیٹل نظام (ای آفس) کے دائرہ کار میں نہیں آ سکے، وہ عملی طور پر گھروں پر فارغ ہیں اور ان کے لیے یہ دورانیہ کسی غیر اعلانیہ تعطیل سے کم نہیں۔
حکومتی موقف جاننے کے لیے جب 'اردو نیوز' نے مختلف وزارتوں کے ترجمانوں سے رجوع کیا تو بتایا گیا کہ تمام ضروری امور گھروں سے انجام دیے جا رہے ہیں۔
ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ ریڈ زون میں واقع زیادہ تر دفاتر کا کام 'پالیسی سازی' سے متعلق ہے، جس کی وجہ سے وہاں 'ورک فرام ہوم' ممکن ہے اور ای آفس کا نظام بھی فعال ہے۔ البتہ، آپریشنل کام کے لیے ریڈ زون سے باہر واقع ذیلی دفاتر معمول کے مطابق کھلے ہیں اور وہاں دفتری سرگرمیاں جاری ہیں۔
مگر آئی ٹی ماہرین کی رائے اس سے مختلف ہے۔
اسلام آباد میں مقیم آئی ٹی ماہر اور ای آفس ڈیزائن کرنے کا تجربہ رکھنے والے روحان زکی کہتے ہیں کہ نجی شعبے میں تو یہ نظام کامیابی سے چل رہا ہے، لیکن حکومتی سطح پر 'ورک فرام ہوم' کے لیے تاحال کوئی ٹھوس میکانزم موجود نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’سرکاری ملازم اب بھی دفتر بیٹھ کر کام کرنے کے عادی ہیں اور ان کا زیادہ تر رابطہ واٹس ایپ تک محدود رہتا ہے، انہیں ای آفس کے جدید استعمال کا تجربہ نہیں ہے۔‘
اُن کے خیال میں اگر نظام مربوط ہو تو کام گھر سے بھی ممکن ہے، مگر انتظامی رکاوٹیں اسے موثر نہیں بننے دے رہیں۔
اسی طرح سائبر اور انفارمیشن سکیورٹی کے ماہر محمد اسد الرحمن کا مشاہدہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ جن دفاتر میں آن لائن کام کا طریقہ کار پہلے سے موجود ہے، وہاں ملازمین کو گھر سے بھی جواب دینا پڑتا ہے، لیکن جہاں یہ نظام نہیں وہاں صرف مخصوص لوگ ہی کام کر رہے ہیں۔
اُنہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ پاکستان میں انٹرنیٹ کی سست رفتاری جیسے مسائل تو اپنی جگہ موجود ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ سرکاری ملازمین کی جدید ٹیکنالوجی سے ناآشنائی بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔