Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’اداروں کے خلاف مواد‘ پھیلانے کے الزام میں مقدمہ، صحافی فخر الرحمان اسلام آباد سے گرفتار

ایف آئی آر میں ان مخصوص سوشل میڈیا لنکس کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جن کے ذریعے مبینہ طور پر مواد پھیلایا گیا (فوٹو: پکسابے)
پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر ’ریاستی اداروں کے خلاف تضحیک آمیز مواد پھیلانے‘ کے الزام میں معروف صحافیوں، بلاگرز اور سیاسی کارکنوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
پیکا ایکٹ 2016 (ترمیمی ایکٹ 2025) کی دفعات 20 اور 26 کے تحت 20 اپریل 2026 کو درج ہونے والی اس ایف آئی آر میں صحافی رضوان احمد خان، محمد صابر شاکر، معید حسن پیرزادہ، فخر الرحمان، سید حیدر رضا مہدی، عاقل حسین، عادل فاروق راجہ، سبطین رضا اور پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم کے جبران الیاس کو نامزد کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر میں کیا ہے؟
این سی سی آئی اے کے سب انسپکٹر شہروز ریاض کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مطابق انکوائری کے نتیجے میں یہ کارروائی کی گئی۔
ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ’نامزد افراد نے بدنیتی اور خفیہ مقاصد کے تحت، دانستہ طور پر اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے حکومتی عہدیداروں اور اداروں کے خلاف جھوٹی اور گمراہ کن معلومات پھیلائیں تاکہ عوام میں نفرت پیدا کی جا سکے۔‘
ایف آئی آر میں ان مخصوص سوشل میڈیا لنکس کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جن کے ذریعے مبینہ طور پر یہ مواد پھیلایا گیا۔

پی ایف یو جے کا موقف

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے صدر افضل بٹ نے تصدیق کی ہے کہ این سی سی آئی اے نے مقدمہ درج کرنے کے بعد سینئر صحافی فخر الرحمان کو ان کے گھر پر چھاپہ مار کر گرفتار کر لیا ہے۔
افضل بٹ نے زیر حراست صحافی فخر الرحمان سے ملاقات کے بعد اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ ’صحافی کا موقف ہے کہ انہیں 16 اپریل کو نوٹس موصول ہوا تھا، تاہم نوٹس دیر سے پہنچنے کے باعث وہ پیش نہ ہو سکے۔‘
فخر الرحمان نے بتایا کہ ’دوسری طلبی پر اسلام آباد میں ٹریفک کے متبادل روٹس کی بندش کے باعث وہ پہنچنے سے قاصر رہے جبکہ انہوں نے متنازع ٹویٹ ڈیلیٹ کر کے معذرت بھی کر لی تھی۔‘
افضل بٹ کے مطابق فخر الرحمان کو سنیچر کو ڈیوٹی جج کی عدالت میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
این سی سی آئی اے کے حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور ایف آئی آر میں موجود شواہد کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

 

شیئر: