اقتصادی سروے: حکومت رواں برس بھی زیادہ تر اہم معاشی اہداف حاصل کرنے میں کیوں ناکام رہی؟
جمعرات 11 جون 2026 16:18
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
رواں مالی سال جولائی سے مارچ کے دوران ڈیجیٹل اور آئی ٹی سیکٹر کے ذریعے 3 ارب 80 کروڑ ڈالر پاکستان لائے گئے، جس میں پاکستانی فری لانسرز کا حصہ 95 کروڑ 90 لاکھ ڈالر رہا۔
وفاقی حکومت کے جاری کردہ ’اقتصادی سروے‘ کے مطابق رواں مالی سال کے دوران سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر میں 9 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا۔
اس کے بعد ترسیلاتِ زر کا یہ حجم 38 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ چکا ہے جو جون کے آخر تک 41 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔
سروے کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 10 کروڑ ڈالر ہیں جو جون کے آخر تک 18 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے، جبکہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں جمع رقم 12 ارب 70 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں انویسٹر بیس بڑھ کر 5 لاکھ 63 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے اور رواں سال اب تک ریکارڈ 11 نئی کمپنیوں کی لسٹنگ ہوئی ہے۔
اس طرح ملک میں 39 ہزار سے زائد نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہونے کے بعد مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
اقتصادی سروے برائے مالی سال 26-2025 کے مطابق حکومت رواں سال بھی اپنے زیادہ تر اہم معاشی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔
’ملکی معاشی شرح نمو 4.2 فیصد کے مقررہ ہدف کے برعکس 3.7 فیصد تک محدود رہی، جبکہ اوسطاً مہنگائی ساڑھے سات فیصد کے سالانہ ہدف کے مقابلے میں 11 ماہ کے دوران 7 فیصد ریکارڈ کی گئی، تاہم مئی 2026 میں مہنگائی کی ماہانہ شرح 11.66 فیصد تک جا پہنچی۔‘
معاشی سُست روی کے باعث ملکی تاریخ میں پہلی بار روپے کی شکل میں فی کس آمدن 5 لاکھ 60 ہزار 803 روپے کے سالانہ ہدف کے مقابلے میں محض 5 لاکھ 33 ہزار 629 روپے تک محدود رہی، البتہ امریکی ڈالر کی قدر میں استحکام کے باعث ڈالروں میں فی کس آمدن 150 ڈالر کے اضافے سے 1901 ڈالر ریکارڈ کی گئی ہے۔
سروے کے مطابق معیشت کے دو اہم ترین ستون یعنی زرعی اور صنعتی شعبے اپنے سالانہ اہداف حاصل نہیں کر سکے۔
زرعی شعبے کی عبوری کارکردگی 4.5 فیصد ہدف کے مقابلے میں 2.89 فیصد جبکہ صنعتی شعبے کی گروتھ 4.30 فیصد ٹارگٹ کے برعکس 3.51 فیصد رہی۔
تاہم خدمات کے شعبے نے 4 فیصد ہدف کے مقابلے میں معمولی بہتری کے ساتھ 4.09 فیصد نمو دکھائی۔ بیرونی محاذ پر ترسیلاتِ زر میں 9 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔
اس کے برعکس اشیاء کی برآمدات 35 ارب 30 کروڑ ڈالر کے ہدف کے مقابلے میں 11 ماہ کے دوران محض 28 ارب ڈالر رہیں، جبکہ درآمدات 65 ارب 20 کروڑ ڈالر کے ہدف کے مقابلے میں 63 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
دستاویزات میں مختلف ذیلی شعبوں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اِن میں طے شدہ ہدف کے مقابلے میں بہتری دیکھنے میں آئی۔
’پیداواری شعبے نے 4.7 فیصد ہدف کے برعکس 6.6 فیصد اور بڑی صنعتوں نے 3.5 فیصد ہدف کے مقابلے میں 6.1 فیصد کی غیر معمولی شرح نمو ریکارڈ کی، جبکہ تعمیرات کے شعبے میں بھی 5.7 فیصد ترقی ہوئی۔‘
اس کے برعکس بجلی، گیس اور واٹر سپلائی کے شعبے کو شدید دھچکہ لگا جہاں 3.5 فیصد نمو کے ہدف کے مقابلے میں 10 فیصد تک کی تاریخی گراوٹ دیکھی گئی۔
دیگر شعبوں میں مواصلات نے 7.5 فیصد اور تعلیم نے 5.2 فیصد کی اچھی شرح نمو دکھائی، جبکہ جنگلات کی نمو 2 فیصد، ماہی گیری 1.6 فیصد، معدنیات 0.38 فیصد، ہول سیل و ریٹیل 3.7 فیصد رہی۔
اقتصادی سروے کے مطابق ٹرانسپورٹ 2.3 فیصد، ہوٹل اور فوڈ انڈسٹری 3.9 فیصد، ریئل اسٹیٹ 3.6 فیصد اور انشورنس و مالیاتی شعبہ محض 0.32 فیصد پر برقرار رہا۔
اقتصادی سروے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ زرعی شعبے میں اہم فصلوں کی مجموعی گروتھ تو منفی 4.5 فیصد کے ہدف کے مقابلے میں محض 0.65 فیصد رہی، لیکن چند اہم فصلوں کی پیداوار میں شاندار اضافہ دیکھا گیا۔
لائیو سٹاک کے شعبے میں 3.75 فیصد بہتری دیکھی گئی اور پیداوار میں 3.46 فیصد اضافہ ہوا۔ سروے کے مطابق اس وقت ملک میں گائے اور بیلوں کی تعداد سب سے زیادہ یعنی 6 کروڑ 19 لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ بھینسوں کی تعداد 4 کروڑ 91 لاکھ ریکارڈ کی گئی ہے۔
اسی طرح بھیڑوں اور دُنبوں کی تعداد 3 کروڑ 35 لاکھ، بکریوں اور بکروں کی تعداد 9 کروڑ 18 لاکھ، اُونٹوں کی تعداد 11 لاکھ 93 ہزار جبکہ گھوڑوں کی تعداد 3 لاکھ 86 ہزار ہو گئی ہے۔
سروے دستاویز میں دلچسپ طور پر یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں گدھوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور رواں مالی سال کے دوران ملک میں گدھوں کی کل تعداد 61 لاکھ 60 ہزار تک ریکارڈ کی گئی ہے۔
