انڈین ریاست منی پور میں حالات ایک بار پھر کشیدہ، تصادم میں تین افراد ہلاک
انڈین ریاست منی پور میں حالات ایک بار پھر کشیدہ، تصادم میں تین افراد ہلاک
ہفتہ 25 اپریل 2026 18:49
منی پور میں گزشتہ تقریباً تین سال سے میتی اور کُکی برادری کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپیں جاری ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
پولیس نے کہا ہے کہ انڈیا کی شورش زدہ شمال مشرقی ریاست منی پور میں دو متحارب نسلی گروہوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جو اس دور دراز خطے میں بدامنی کا تازہ واقعہ ہے۔
منی پور میں گذشتہ تقریباً تین سال سے اکثریتی ہندو میتی برادری اور زیادہ تر مسیحی کُکی برادری کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپیں جاری ہیں، جن میں اب تک 250 سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔
پولیس نے جمعے کی رات جاری ایک بیان میں کہا کہ ’شدید فائرنگ کے تبادلے میں تین افراد کو گولی لگنے سے جان لیوا زخم آئے۔‘
یہ جھڑپیں ضلع اکھرول کے گاؤں ملّام میں ہوئیں، جبکہ پولیس نے یہ واضح نہیں کیا کہ ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق کس برادری سے تھا۔
پولیس کے مطابق پرتشدد واقعات کو روکنے کے لیے علاقے میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔
’کارروائیاں ابھی جاری ہیں‘
میتی اور کُکی برادریوں کے درمیان طویل عرصے سے جاری دشمنی کی بڑی وجہ زمین اور سرکاری ملازمتیں ہیں۔
انسانی حقوق کے کارکنوں نے مقامی رہنماؤں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اپنے سیاسی مفادات حاصل کرنے کے لیے نسلی تقسیم کو بڑھاوا دیتے ہیں۔
یہ بدامنی 2023 میں اس وقت شروع ہوئی جب سرکاری اعدادوشمار کے مطابق قریباً 60 ہزار افراد کو اپنے گھروں سے نقل مکانی کرنا پڑی۔
بعد ازاں حالات قدرے بہتر ہوئے، تاہم اس ماہ کے آغاز میں ایک کُکی گروہ کے حملے میں دو بچوں سمیت چار افراد مارے گئے، جس کے بعد میتی ہجوم نے ایک نیم فوجی کیمپ پر دھاوا بول دیا۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ مقامی رہنما اپنے سیاسی مفادات حاصل کرنے کے لیے نسلی تقسیم کو بڑھاوا دیتے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
جمعرات کو انڈیا کی شمال مشرقی ریاستوں منی پور اور میزورم سے تعلق رکھنے والے 249 افراد تل ابیب پہنچے جو بنی میناسے برادری سے ہیں اور خود کو اسرائیل کے ’گمشدہ قبائل‘ میں سے ایک کی نسل قرار دیتے ہیں۔
اسرائیلی حکومت نے نومبر میں اس برادری کے قریباً 6 ہزار افراد کی نقل مکانی میں مالی معاونت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد یہ اس گروہ کی اسرائیل پہلی آمد تھی۔
ان کی زبانی روایات کے مطابق وہ صدیوں پر محیط ایک نقل مکانی کے دوران ایران، افغانستان، تبت اور چین میں رہے اور اس دوران بعض یہودی مذہبی رسومات، جیسے ختنہ پر عمل کرتے رہے۔
انڈیا میں ان افراد کا مذہب 19 ویں صدی کے مسیحی مشنریوں نے تبدیل کروایا تھا۔