Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان سے غزہ تک، 2025 دنیا کے لیے خونی سال، عالمی تنازعات دوسری جنگِ عظیم کے بعد بلند ترین سطح پر

ایک نارویجن تحقیق کے مطابق 2025 میں دنیا نے دوسری عالمی جنگ کے بعد ریاستی تنازعات کی سب سے زیادہ تعداد دیکھی، جبکہ سویلین کو نشانہ بنانے والے حملوں میں بھی غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اوسلو (پریو) کی سالانہ رپورٹ ’کانفلکٹ ٹرینڈز‘ کے مطابق گزشتہ سال دنیا بھر میں کم از کم ایک ریاست کو شامل کرنے والے 65 تنازعات ریکارڈ کیے گئے، جو 1946 کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔
ریاستوں کے درمیان براہِ راست تنازعات بھی گزشتہ 80 برسوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے اور ان کی تعداد دوگنی ہو کر آٹھ ہوگئی۔ ان میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان سرحدی جھڑپیں، افغانستان اور پاکستان کے درمیان تنازع، کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان کشیدگی، روس کی یوکرین پر چڑھائی اور اسرائیل کی شام میں فوجی کارروائیاں شامل ہیں۔
تحقیق کار سیری آس روسٹاد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’بدقسمتی سے اس رپورٹ میں مثبت پہلو بہت کم ہیں۔ عام طور پر میں کچھ نہ کچھ امید افزا بات نکال لیتی ہوں، لیکن اس سال کے اعداد و شمار واقعی حیران کن ہیں۔‘
گزشتہ سال سرد جنگ کے خاتمے کے بعد تیسرا سب سے خونریز سال ثابت ہوا۔ لڑائیوں اور سیاسی تشدد کے نتیجے میں تقریباً 2 لاکھ 45 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔
ان میں سے تقریباً 76 ہزار 500 افراد ایسے حملوں میں مارے گئے جن میں شہریوں کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا، جبکہ 2024 میں یہ تعداد 14 ہزار 200 تھی۔
سویلین ہلاکتوں میں یہ تیز اضافہ بنیادی طور پر سوڈان میں فوج اور پیرا ملٹری فورسز کے درمیان جاری جنگ کی وجہ سے ہوا۔ رپورٹ کے مطابق دارفور کے شہر الفاشر میں محاصرے اور قتلِ عام کے نتیجے میں تقریباً 60 ہزار افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
سرد جنگ کے خاتمے کے بعد صرف 1994 اور 2021 میں اس سے زیادہ خونریزی دیکھی گئی تھی، جن کی وجہ بالترتیب روانڈا جینوسائیڈ اور ایتھوپیا کے تیگرائے ریجن کی جنگ تھی۔

افریقہ سب سے زیادہ متاثر

رپورٹ کے مطابق افریقہ ریاستی تنازعات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا خطہ رہا، جہاں 29 تنازعات ریکارڈ کیے گئے۔ اس کے بعد ایشیا، مڈل ایسٹ، امریکہ اور یورپ کا نمبر آتا ہے۔
روسٹاد نے کہا  کہ ’گزشتہ پانچ یا چھ برسوں میں کئی بڑے تنازعات ایک ہی وقت میں جاری رہے ہیں اور ایک تنازع ختم ہونے سے پہلے دوسرا شروع ہو جاتا ہے۔ دنیا کو سکون کا کوئی وقفہ نہیں مل رہا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی سطح پر مسلسل بلند شدت کے تنازعات کا یہ رجحان ماضی سے مختلف ہے۔
یہ تحقیق اپسالا کانفلکٹ ڈیٹا پروگرام (یو سی ڈی پی) کے اعداد و شمار پر مبنی ہے، جو اپسالا یونیورسٹی سے وابستہ ہے۔
روسٹاد نے کہا کہ اسرائیل اس وقت ’واضح طور پر دنیا کے سب سے زیادہ جارحانہ ممالک میں سے ایک‘ ہے۔ انہوں نے غزہ، شام، لبنان، ایران اور حوثی ریبلز کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کا حوالہ دیا۔
انہوں نے امریکہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اقتدار میں واپسی کے بعد نہ صرف تشدد اور جارحانہ اقدامات میں اضافہ ہوا ہے بلکہ تجارتی رکاوٹیں بھی بڑھ گئی ہیں۔
ان کے مطابق ’ہم عالمی تعاون کو محدود کر رہے ہیں۔ یونائیٹڈ نیشنز سکیورٹی کونسل مؤثر انداز میں کام نہیں کر رہی۔ دنیا پہلے سے کہیں زیادہ تقسیم اور قطبیت کا شکار ہو رہی ہے۔‘

شیئر: