تیزاب حملہ: ڈاکٹر ماہ نور کا علاج جاری، ’ملزم نے رشتے سے انکار پر انتہائی قدم اٹھایا‘
تیزاب حملہ: ڈاکٹر ماہ نور کا علاج جاری، ’ملزم نے رشتے سے انکار پر انتہائی قدم اٹھایا‘
بدھ 10 جون 2026 5:18
زین الدین احمد -اردو نیوز، کوئٹہ
کوئٹہ میں تیزاب حملے میں زخمی ہونے والی خاتون ڈاکٹر ماہ نور کی پہلی سرجری کامیابی سے مکمل کر لی گئی ہے جس کے دوران متاثرہ حصوں سے مردہ جلد کو ہٹایا گیا۔
ڈاکٹر ماہ نور کے بھائی فرحت ناصر کے مطابق آپریشن کے بعد ان کی حالت پہلے سے بہتر ہے تاہم تیزاب سے لگنے والے زخموں کے باعث انفیکشن کا خطرہ برقرار ہے جس کے پیش نظر انہیں آئسولیشن میں رکھا گیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ مرحلہ وار سرجریز کی جا رہی ہیں جن میں متاثرہ جلد کو ہٹانے کے ساتھ نئی جلد کی پیوندکاری (سکن گرافٹنگ) بھی شامل ہے۔ اس سلسلے میں منگل کو پہلی سرجری کی گئی جو آٹھ گھنٹوں سے زائد وقت تک جاری رہی۔
بلوچستان کے وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے اردو نیوز کو بتایا کہ ڈاکٹر ماہ نور کی صحت بتدریج بہتر ہورہی ہے۔ حکومت ان کے علاج کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ اگر ضرورت ہوئی تو انہیں بیرون ملک بھی منتقل کیا جائے گا۔
کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی سینئر ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے بتایا کہ وہ کراچی میں ڈاکٹر ماہ نور اور ان کے اہلخانہ سے ملاقات کر کے آئی ہیں اور ڈاکٹر اور ان کے خاندان کا حوصلہ بلند ہے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر ماہ نور پر سنیچر کو کوئٹہ کے سول ہسپتال میں اس وقت تیزاب پھینکا گیا تھا جب وہ ڈیوٹی پر موجود تھیں جس کے نتیجے میں ان کا چہرہ، آنکھیں اور ہاتھ متاثر ہوئے۔
کوئٹہ میں ابتدائی طبی امداد کے بعد انہیں ایئر ایمبولینس کے ذریعے کراچی منتقل کیا گیا جہاں آغا خان یونیورسٹی ہسپتال میں سرکاری خرچ پر ان کا علاج جاری ہے۔
محکمہ صحت بلوچستان کے مطابق ماہرینِ پلاسٹک سرجری، امراض چشم اور دیگر شعبوں پر مشتمل ٹیم ان کے علاج میں مصروف ہے۔
بتدائی رپورٹ کے مطابق ان کے جسم کا تقریباً 13 فیصد حصہ متاثر ہوا جس میں سے 7 سے 8 فیصد گہرے زخم ہیں۔ ایک آنکھ شدید متاثر ہوئی تھی تاہم بعد ازاں ڈاکٹروں نے بینائی محفوظ ہونے کی تصدیق کی البتہ دھندلا پن موجود ہے جس کا علاج کیا جا رہا ہے۔
پولیس کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اس سلسلے میں متعلقہ لوگوں کے بیانات ریکارڈ کئے جارہے ہیں۔ متاثرہ ڈاکٹر کے صحت یاب ہونے کے بعد ان کا بیان بھی ریکارڈ کیا جائے گا۔
پولیس کے مطابق حملہ آور کی شناخت نوشکی کے رہائشی ہمایوں شاہ کے نام سے ہوئی تھی جو ہسپتال میں دو سال سے لفٹ آپریٹر کے طور پر کام کرتا تھا۔ ملزم حملے کے بعد فرار ہوا تاہم بعد میں ایک مبینہ مقابلے میں مارا گیا ۔ موت کے بعد اس کے خلاف تیزاب حملے، اسلحہ رکھنے اور پولیس پر فائرنگ کے تین مقدمات درج کیے گئے۔
پولیس کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اس سلسلے میں متعلقہ لوگوں کے بیانات ریکارڈ کئے جارہے ہیں۔ متاثرہ ڈاکٹر کے صحت یاب ہونے کے بعد ان کا بیان بھی ریکارڈ کیا جائے گا۔
ڈاکٹر ماہ نور کے بھائی فرحت ناصر کا کہنا ہے کہ خاندان کو اب تک اس واقعہ کے محرکات کا علم نہیں۔
متاثرہ خاتون ڈاکٹر اس وقت کراچی کے آغا خان یونیورسٹی ہسپتال میں زیر علاج ہیں (فوٹو: آغا خان یونیورسٹی ہسپتال)
ڈی آئی جی کوئٹہ عمران شوکت نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ تیزاب حملہ کیس کی تحقیقات مختلف پہلوؤں سے جاری ہیں اور اس بات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ ملزم نے تیزاب کہاں سے خریدا اور کس نوعیت کا تیزاب استعمال کیا گیا۔ یہ تیزاب کہاں کہاں دستیاب تھا۔
انہوں نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج سے معلوم ہوا ہے کہ ملزم صبح ہسپتال آتے وقت تیزاب اپنے ساتھ لایا تھا ۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ واقعہ مبینہ طور پر یکطرفہ دلچسپی کا نتیجہ تھا اور مسترد کیے جانے پر ملزم نے انتہائی قدم اٹھایا۔
ان کے مطابق موبائل فون کے فرانزک سے شواہد حاصل کرنے کی کوشش جاری ہے تاہم اب تک پیغامات میں واضح ثبوت نہیں ملے امکان ہے کہ مواد حذف کیا گیا ہو جسے ریکور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
پولیس ذرائع نے اردو نیوز کو بتایا کہ ملزم نے واقعے سے قبل ایک خاتون کے ذریعے ڈاکٹر ماہ نور کو رشتے کا پیغام بھجوایا تھا جسے مسترد کر دیا گیا تھا جس کا اسے رنج تھا جو تیزاب حملے کی وجہ بنا۔
ماہ نور ناصر ایک ایک کاروباری، معتبر قبائلی اور سیاسی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کے والد حبیب اللہ ناصر دکی کے سابق تحصیل ناظم رہ چکے ہیں جبکہ ان کے خاندان کے افراد سابق نگراں وزیر اور موجودہ ڈسٹرکٹ چیئرمین دکی بھی رہے ہیں۔
ڈی آئی جی کوئٹہ عمران شوکت کا کہنا ہے کہ ملزم کے خاندان کے افراد نے بتایا کہ انہیں ہمایوں کے ارادوں کا کوئی علم نہیں تھا۔ ’ایک رشتہ دار نے بتایا کہ ان کی جانب سےشاید رشتہ بھیجنے کی کوشش کی گئی تھی۔‘
تاہم ڈاکٹر ماہ نور ناصر کے والد حبیب اللہ ناصر نے واضح کیا ہے کہ ملزم ہمایوں شاہ کی جانب سے ڈاکٹر ماہ نور کے لیے کوئی رشتہ نہیں آیا یہ بنیاد اور من گھڑت بات ہے۔
پولیس کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ملزم کے رشتہ داروں نے بتایا کہ ہمایوں شاہ کو کچھ عرصہ قبل وراثت میں ایک کروڑ روپے سے زائد رقم ملی تھی اور وہ کوئٹہ میں علیحدہ رہائش اختیار کر چکا تھا۔
واقعے سے چند روز قبل ہی اس نے اپنی رہائش سے سامان منتقل کر دیا تھا جس سے شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ وہ حملے کی پیشگی منصوبہ بندی کرچکا تھا۔
بلوچستان حکومت نے متاثرہ ڈاکٹر کے اہلخانہ کو ہر قسم کی حکومتی مدد کا یقین دلایا ہے (فوٹو: اے پی پی)
تاہم ڈی آئی جی کوئٹہ عمران شوکت کا کہنا ہے کہ ملزم کے خاندان نے بتایا ہے کہ انہیں ہمایوں کے ارادوں کا علم نہیں تھا۔
دوسری جانب اس واقعے کے خلاف بلوچستان میں ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی کے علاوہ دیگر شعبوں میں جزوی بائیکاٹ کیا جا رہا ہے جس سے دور دراز علاقوں سے آنے والے مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
بلوچستان میڈیکل ٹیچرز ایسوسی ایشن نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے شفاف تحقیقات ، تیزاب گردی اور ہسپتالوں میں مستقبل میم ایسے واقعات کے سدباب کے لیے مؤثر قانون سازی کا مطالبہ کیا ہے۔ منگل کو کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر عبداللہ نے واقعہ کے بعد حکومت اور پولیس کے اقدامات اور ابتدائی ردعمل کو سراہا ۔ انہوں نے ینگ ڈاکٹر ز کے رویے کو نامناسب قرار دیا اور کہا کہ انہیں سینئر ڈاکٹرز کے مشورے سے آگے بڑھنا چاہیے۔