’کیفے میں فلسطینی پرچم‘، فلپائنی جزیرے پر اسرائیلی سیاحوں کی بدسلوکی، کریک ڈاؤن کا مطالبہ
’کیفے میں فلسطینی پرچم‘، فلپائنی جزیرے پر اسرائیلی سیاحوں کی بدسلوکی، کریک ڈاؤن کا مطالبہ
بدھ 10 جون 2026 8:24
تشویش ہے کہ بڑھتے ہوئے پرتشدد واقعات جزیرے کی سیاحتی کشش کو متاثر کر سکتے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
جب سیارگاؤ کے ایک ریستوران میں اسرائیلی سیاحوں کے حملے کی خبر قومی سطح پر شہ سرخی بنی تو یہ جنوبی فلپائن کے اس جزیرے پر حالیہ مہینوں میں پیش آنے والا پہلا واقعہ نہیں تھا۔
اس بار، تاہم، یہ خبر وائرل ہوگئی اور بڑی تعداد میں فلپائنی انفلوئنسرز نے اسرائیل سے آنے والے سیاحوں پر کریک ڈاؤن کا مطالبہ کیا تاکہ بدسلوکی کو روکا جا سکے۔
11 مئی کو دو اسرائیلی سیاحوں پر الزام لگایا کہ انہوں نے سیارگاؤ کے کارٹون ریسٹو کیفے کے مالکان پر حملہ کیا، مبینہ طور پر اس وجہ سے کہ کیفے میں فلسطینی پرچم آویزاں تھا۔ کیفے مالکان نے کوئی بیان نہیں دیا، لیکن دیگر کاروباری افراد نے میڈیا کو واقعے کی تفصیلات بتائیں۔
سیارگاؤ کے رہائشی اور ریستوران کے مالک ایلی راسا نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’اسرائیلی اندر گھس آئے، انہوں نے سی سی ٹی وی کیمرہ توڑ دیا، کیفے کے اندر سامان کو بھی نقصان پہنچایا اور مالکان کو زخمی کیا۔ ان کے پاس خفیہ کیمرے کی ویڈیو ہے، جو پولیس کے حوالے کر دی گئی۔ زخمی ہونے کے بعد وہ ہسپتال گئے، رپورٹ درج کرائی، لیکن پولیس ملزمان کو پکڑ نہ سکی۔‘
سیارگاؤ فلپائن کا مشہور سر فنگ مقام ہے جو اپنی ساحلی پٹی اور لگونز کی وجہ سے مقامی اور بین الاقوامی سیاحوں کو سال بھر اپنی طرف کھینچتا ہے۔ تشویش ہے کہ بڑھتے ہوئے پرتشدد واقعات جزیرے کی سیاحتی کشش کو متاثر کر سکتے ہیں۔
راسا کے مطابق ’اب لوگ کہتے ہیں کہ وہ اپنا سفر ملتوی کرنے کا سوچ رہے ہیں کیونکہ انہوں نے سنا ہے کہ وہاں اسرائیلی سیاح بدتمیزی اور تشدد کرتے ہیں۔ یہ سیارگاؤ کی پہچان نہیں ہونی چاہیے۔ ہمیں بہت فکر ہے۔‘
کارٹون ریسٹو کیفے کے واقعے کے بعد مزید کاروباری افراد سامنے آئے ہیں، جنہوں نے اسرائیلی سیاحوں کی جانب سے بدسلوکی اور دھمکیوں کے واقعات بیان کیے۔
وکیل ریگل اولیوا نے کہا کہ ’یہ کوئی الگ تھلگ واقعات نہیں ہیں، ایک پیٹرن سامنے آ رہا ہے۔ سیارگاؤ میں مقامی لوگوں کی شکایات درج ہیں: زبانی بدسلوکی، خودسری، غیر ذمہ دارانہ رویہ اور کمیونٹی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی۔‘
ان کے ویڈیو بیان کو 35 لاکھ سے زائد افراد نے دیکھا جس میں اسرائیلی سیاحوں پر مقامی لوگوں کو ’نوکر یا غلام‘ کہنے، پرسکون محلوں میں خطرناک ڈرائیونگ کرنے، کرایہ کے گھروں کو نقصان پہنچانے، کرفیو کی خلاف ورزی کرنے اور قوانین کو نظرانداز کرنے کے الزامات لگائے گئے۔
میتھلڈا ایئرلائنز نے کہا کہ ’ہم مہمان نواز ہیں، لیکن ہمیں ایسے قوانین نافذ کرنے چاہئییں جو ہماری مقامی آبادی کی عزت کی حفاظت کریں۔‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
انہوں نے واضح کیا کہ یہ رویہ یہودیوں کے خلاف نہیں بلکہ فلپائن کے قوانین کی پاسداری کے لیے ہے ’جو لوگ ہراسانی کرتے ہیں، بے ادبی کرتے ہیں، نظام کو توڑنے کی کوشش کرتے ہیں، انہیں سختی سے روکا جانا چاہیے۔‘
دیگر فلپائنی انفلوئنسرز نے بھی مطالبہ کیا کہ مقامی حکام اپنی کمیونٹی کے تحفظ کے لیے زیادہ فیصلہ کن اقدامات کریں۔
میتھلڈا ایئرلائنز نے کہا کہ ’ہم مہمان نواز ہیں، لیکن ہمیں ایسے قوانین نافذ کرنے چاہئییں جو ہماری مقامی آبادی کی عزت کی حفاظت کریں، جو سیارگاؤ کی سیاحت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ غیر قانونی قابضین کا یہاں کوئی حق نہیں۔‘
انہوں نے اسرائیلی سیاحوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’زمین کے مالک بننے کی اداکاری بند کرو۔ مقامی لوگوں کو غلام سمجھنا چھوڑ دو، اور کرفیو اور ماحولیات کے تحفظ کے قوانین کی پابندی کرو۔‘
گزشتہ سال مئی میں یہ معاملہ قومی سطح پر اس وقت نمایاں ہوا جب مقامی لوگوں نے اسرائیلی منصوبے کے تحت ایک ’چاباد ہاؤس‘ (یہودی کمیونٹی سینٹر) کھولنے کی مخالفت کی۔ اس وقت سے کاروباری افراد نے اپنے تجربات بیان کرنا شروع کیے۔