Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ کا ایران پر ہیلی کاپٹر گرانے کا الزام اور حملے، تہران کی جوابی کارروائی

ایران نے امریکہ کے نئے حملوں کے جواب میں کویت اور بحرین پر میزائل داغے ہیں جس پر دونوں ممالک کے دفاعی نظام فعال ہو گئے ہیں۔
خبر رساں اداروں کے مطابق پیر کو آبنائے ہرمز کے قریب امریکہ کا فوجی ہیلی کاپٹر اپاچی گرنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جس کا الزام صدر ٹرمپ نے ایران پر لگایا اور منگل کو حملے کیے گئے تھے۔
ایران کا کہنا ہے کہ اردن میں ایک ہوائی اڈے کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جس کو فوری طور پر اردنی اور امریکی حکام نے تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔
اس سے قبل ایران نے اعلان کیا تھا کہ اس نے عمان ساحل کے قریب اپانی ہیلی گرنے کے بعد ایران پر حملے شروع کر دیے ہیں۔
اسی طرح امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ہیلی کاپٹر گرانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا جواب دیا جائے گا۔
سوشل میڈیا پر یو ایس سینٹرل کمانڈ کی جانب سے کی گئی پوسٹ میں کہا گیا کہ ’یہ حملے ایرانی جارحیت کا مناسب جواب ہوں گے۔‘
صدر ٹرمپ نے سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’مجھے ابھی فوج نے اطلاع دی ہے کہ کل رات ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک فوجی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا ہے جس کا جواب دیا جائے گا۔‘
ان کے مطابق ’واقعے میں ہیلی کاپٹر کے دونوں پائلٹ محفوظ رہے ہیں۔‘
صدر ٹرمپ کے اعلان اور اقدام نے اس امکانات کو مزید غیریقینی سے دو چار کر دیا ہے جس کی امید آٹھ اپریل کو اس وقت بندھی تھی جب دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی ہو گئی تھی۔
بعدازاں اس جنگ بندی کو وسعت دی گئی اور ساتھ ہی مذاکرات کا سلسلہ بھی چلتے رہے اور اس بات کی امید پیدا ہو گئی تھی کہ جنگ کے مکمل خاتمے کی کوئی صورت نکل آئے گی۔
ایک روز قبل ہی امریکی صدر نے اعلان کیا تھا کہ ’مشرق وسطیٰ امن معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔‘

شیئر: