Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان سے واپس پاکستان پہنچ گئے

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے تاکہ مزید مشاورت کی جا سکے، جبکہ بین الاقوامی ثالث امن مذاکرات کو جاری رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایرانی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ عباس عراقچی پاکستانی حکام سے ملاقات کریں گے تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے مکمل خاتمے کے لیے کسی بھی معاہدے کے فریم ورک سے متعلق ایران کے مؤقف اور خیالات سے آگاہ کیا جا سکے۔
وزیر خارجہ اس سے صرف ایک دن پہلے بھی اسلام آباد میں موجود تھے، جس کے بعد وہ عمان چلے گئے، جبکہ دیگر ایرانی نمائندے ’جنگ کے خاتمے سے متعلق معاملات پر مشاورت اور ضروری ہدایات حاصل کرنے کے لیے‘ تہران روانہ ہوئے تھے۔

اسلام آباد میں ہفتے کے روز ایران اور پاکستان کے مذاکرات سے پہلے وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا تھا کہ ٹرمپ کے امن نمائندے سٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر مزید مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ ہونے والے ہیں۔
تاہم ٹرمپ نے بعد یہ دورہ منسوخ کر دیا، کیونکہ ان کے مطابق ’صرف بیٹھ کر غیر ضروری باتیں کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔‘
انہوں نے ایران کے مذاکراتی مؤقف کو غیر تسلی بخش قرار دیا تھا، لیکن ساتھ ہی کہا کہ ان کے فیصلے کے چند منٹ بعد ہی تہران نے اپنی تجویز میں تبدیلی کر دی ہے۔
ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ’انہوں نے ہمیں ایک دستاویز دی جو بہتر ہونی چاہیے تھی، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جب میں نے اسے منسوخ کیا تو 10 منٹ کے اندر ہمیں ایک نئی دستاویز ملی جو کافی بہتر تھی۔‘
 تاہم انہوں نے اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی۔

 
رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی پاکستانی حکام سے ملاقات کے بعد سنیچر 25 اپریل کی شام مسقط پہنچے تھے۔
ان کے وفد کا ایک حصہ ’جنگ کے خاتمے سے متعلق مشاورت اور ضروری ہدایات‘ کے لیے تہران واپس چلا گیا تھا۔
خیال رہے عباس عراقچی اس وفد کی قیادت کر رہے تھے جو مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے اسلام آباد آیا تھا جبکہ امریکی وفد نے اگلے روز پہنچنا تھا۔

شیئر: