Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان میں طبی شعبے سے متعلق پی ایم ڈی سی خط پر تنازع شدت اختیار کر گیا

پاکستان میں طبی شعبے سے وابستہ ریگولیٹری ادارے، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ خط نے ملک بھر میں ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے جس کی زد میں فارماسسٹس، سائیکالوجسٹس اور ڈینٹل ٹیکنیشنز جیسے ہزاروں تربیت یافتہ پیشہ ور افراد آ گئے ہیں۔
کونسل نے اپنے اس   خط کے ذریعے ان تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنے نام کے ساتھ ’کلینیکل‘ کا لفظ استعمال کرنے اور آزادانہ طور پر اپنی خدمات فراہم کرنے سے روکنے سفارش کی ہے۔ پی ایم ڈی سی کا موقف ہے کہ صرف ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس ڈگری ہولڈرز ہی قانونی طور پر مریضوں کی تشخیص اور علاج کرنے کے مجاز ہیں، جبکہ دیگر شعبوں کے افراد کا خود کو کلینیکل قرار دینا غیر قانونی پریکٹس کے زمرے میں آتا ہے۔
 اس خط کے منظرِ عام پر آتے ہی سوشل میڈیا اور طبی حلقوں میں ایک شدید بحث چھڑ گئی ہے۔ ماہرینِ نفسیات اور فارماسسٹس کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ لفظ کلینیکل کی تعریف صرف دوائی تجویز کرنے تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ ایک وسیع تر اصطلاح ہے جس میں مرض کی نوعیت کو سمجھنا اور تھراپی کے ذریعے اس کا حل نکالنا شامل ہے۔ ان کا موقف ہے کہ ان کے نصاب اور برسوں کی تربیت کا لازمی حصہ کلینیکل پریکٹس ہی ہوتا ہے، اس لیے کسی ایک ادارے کی جانب سے اچانک اسے بند کرنا ان کی ڈگریوں کو بے معنی بنانے کے مترادف ہے۔ خاص طور پر کلینیکل سائیکالوجی کے شعبے میں کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ وہ دوا کے بغیر علاج کے ماہر ہوتے ہیں اور ان کی پوری ڈگری ہی اس خاص تربیت پر مبنی ہوتی ہے، جس کی اجازت دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک میں دی جاتی ہے۔
پاکستان سائیکولوجیکل ایسوسی ایشن کی صدر پروفیسر ڈاکٹر رافعیہ رفیق کی جانب سے منسٹری آف نیشنل ہیلتھ سروسز کو لکھے گئے ایک مراسلے میں اس خط کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ ’ایسوسی ایشن کو پی ایم ڈی سی کے خط میں لکھے گئے الفاظ پر شدید اعتراض ہے۔ اس خط نے بڑے پیمانے پر الجھاؤ پیدا کر دیا ہے۔ اور جس عمومی طریقے سے پابندی لگانے کی بات کی گئی ہے اس سے پروفیشنلز اور عوام میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔‘
انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان سائیکلوجیکل ایسوسی ایشن بل 2022، جو کہ سینیٹ کی سٹینڈینگ کمیٹی کے سامنے زیر التوا ہے، کو زیر بحث لایا جائے۔
’پی ایم ڈی سی اپنے ڈائریکٹو کو واپس لے اور سائیکالوجسٹس کی پیشہ ورانہ خود مختاری کا احترام کیا جائے۔‘
عالمی سطح پر اگر دیکھا جائے تو برطانیہ، امریکہ اور آسٹریلیا جیسے ممالک میں کلینیکل سائیکالوجسٹ اور کلینیکل فارماسسٹ باقاعدہ لائسنس یافتہ پروفیشنلز ہوتے ہیں جو اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کر آزادانہ کام کرتے ہیں۔ ان ممالک میں ’کلینیکل‘ کا لفظ ایک محفوظ پیشہ ورانہ عنوان ہے جسے صرف وہی استعمال کر سکتا ہے جس نے متعلقہ تربیت حاصل کی ہو۔ پاکستان میں اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ایک مشترکہ الائیڈ ہیلتھ کونسل کی کمی ہے، جس کی وجہ سے پی ایم ڈی سی دیگر شعبوں کے ضابطہ اخلاق پر بھی اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس خط کے بعد اب یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا پی ایم ڈی سی ایک انتظامی مراسلے کے ذریعے ان پروفیشنلز کے سکوپ کو محدود کر سکتی ہے جو پہلے ہی اپنے اپنے کونسل ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ہیں۔
اس وقت سوشل میڈیا پر مختلف تنظیموں کی جانب سے سخت ردِعمل سامنے آ رہا ہے اور پاکستان فارماسسٹس ایسوسی ایشن سمیت ماہرینِ نفسیات کی نمائندہ تنظیموں نے احتجاج کا راستہ اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان تنظیموں کے مطابق پاکستان میں لگ بھگ ستر ہزار سے زائد فارماسسٹ اور پندرہ ہزار سے زائد ماہرینِ نفسیات اس فیصلے سے براہِ راست متاثر ہوں گے، جن کا روزگار اور پیشہ ورانہ شناخت خطرے میں پڑ گئی ہے۔
انٹرنیٹ پر جاری بحث میں طلباء کی ایک بڑی تعداد بھی شامل ہے جن کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے ان ڈگریوں کو کلینیکل تسلیم نہیں کرنا تھا تو جامعات کو ان ناموں سے داخلے دینے کی اجازت کیوں دی گئی۔
مبصرین کا خیال ہے کہ اس معاملے کی نوعیت اب محض ایک خط تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ ایک قانونی جنگ کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ذہنی صحت اور ادویات کی درست فراہمی کے لیے ان پروفیشنلز کا کردار انتہائی اہم ہے اور انہیں دیوار سے لگانے سے ملک کا پہلے سے کمزور طبی ڈھانچہ مزید مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا حکومتِ پاکستان اور وزارتِ صحت اس معاملے میں مداخلت کر کے پی ایم ڈی سی اور دیگر پروفیشنلز کے درمیان اس بڑھتی ہوئی خلیج کو کم کرنے کے لیے کوئی درمیانی راستہ نکالتی ہے یا یہ معاملہ عدالتوں میں جا کر مزید طول پکڑتا ہے۔

شیئر: