راولپنڈی اسلام آباد میں ہر قسم کی ٹریفک بحال، ’فیض آباد، پیرودھائی ٹرمینل بند رہیں گے‘
راولپنڈی اسلام آباد میں ہر قسم کی ٹریفک بحال، ’فیض آباد، پیرودھائی ٹرمینل بند رہیں گے‘
اتوار 26 اپریل 2026 10:38
19 اپریل کو جڑواں شہروں میں ہر قسم کی ٹریفک کا داخلہ بند کیا گیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور جڑواں شہر راولپنڈی کی انتظامیہ نے کہا کہ دونوں شہروں میں پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کو داخلے کی اجازت دے دی گئی ہے جبکہ میٹرو سروس بھی بحال ہو گئی ہے۔
ڈی سی اسلام آباد کی جانب سے ایکس پر کی گئی پوسٹ میں بتایا گیا ہے کہ شہر میں ہر قسم کی پبلک اور گذز ٹرانسپورٹ کو داخل ہونے کی اجازت دے گی گئی ہے اور فیض آباد کے علاوہ تمام بس اڈے بھی کھول دیے گئے ہیں۔
بیان کے مطابق ’فیض آباد بس ٹرمینل کو تاحکمِ ثانی بند رکھا جائے گا۔‘
بیان کے مطابق اسلام آباد کی جانب سے ہائیکنگ ٹریلز کو بھی کھول دیا گیا ہے جبکہ دامن کوہ اور لیک ویو سمیت دوسرے پارک بھی عوام کے لیے کھول دیے گئے ہیں۔
اسی طرح ڈی سی راولپنڈی کی پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ شہر کے تمام داخلی اور خارجی راستے ہر قسم کی ٹریفک کھول دیے گئے ہیں اور اب پرائیویٹ، پبلک اور ہیوی گاڑیاں ان کے راستے اندر آ اور باہر جا سکیں گی۔
بیان میں یہ وضاحت بھی کی گئی ہے کہ ’پیر ودھائی اڈے کو تاحکمِ ثانی بند رکھا جائے گا۔‘
میٹرو بس سروس بھی بحال کر دی گئی ہے (فوٹو: اے پی پی)
جڑواں شہروں میں 19 اپریل کو دونوں شہروں کی انتظامیہ نے پبلک اور کسی بھی قسم کی ہیوی ٹریفک بند کرنے کا اعلان کیا گیا تھا جس کے بعد سات روز تک ٹریفک کا داخلہ بند رہا۔
پولیس کی جانب سے بندش کے دوران متبادل روٹس کے حوالے سے پلان بھی جاری کیا گیا تھا۔
خیال رہے اسلام آباد اور جڑواں شہر اسلام آباد میں امریکہ ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے ضمن میں خصوصی انتظامات کیے گئے تھے اور ایران کا وفد وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں اسلام پہنچ گیا تھا۔
اگرچہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنے نمائندے بھیجنے کا اعلان کیا گیا تھا تاہم اگلے روز انہوں نے یہ دورے کو ملتوی کرنے کا اعلان کیا تھا۔
پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے بات چیت کا یہ دوسرا دور منعقد نہیں ہو سکا اور ایران کا وفد سنیچر کی شام کو واپس چلا گیا تھا۔
10 اور 11 اپریل کو ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور کے وقت بھی شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ کو بند کر دیا گیا تھا تاہم راستوں کی بندش کے باوجود پرائیویٹ گاڑیوں کا دوسرے راستوں سے اسلام آباد میں آمد کا سلسلہ کسی حد تک جاری رہا تاہم اس بار اس سے سخت انتظامات دیکھنے میں آئے۔