سیرینا ہوٹل اور ریڈ زون کے اطراف میں ٹریفک پابندیاں ختم ہو گئی ہیں: اسحاق ڈار
سیرینا ہوٹل اور ریڈ زون کے اطراف میں ٹریفک پابندیاں ختم ہو گئی ہیں: اسحاق ڈار
اتوار 26 اپریل 2026 10:38
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں سیرینا ہوٹل اور ریڈ زون کے اطراف میں ٹریفک پابندیاں آج ختم ہو گئی ہیں۔
اتوار کی رات کو اسحاق ڈار نے ایکس پر لکھا کہ ’میں اہلِ پاکستان بالخصوص اسلام آباد اور راولپنڈی کے شہریوں کے صبر اور تعاون پر دل کی گہرائیوں سے ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آپ کی حمایت ہمیں اپنے مہمانوں کی حفاظت کو یقینی بنانے اور خطے میں امن کے لیے اپنی کوششوں کو آگے بڑھانے کے قابل بناتی ہے۔ ہم ان مقاصد کے لیے پرعزم ہیں اور آپ کی مسلسل دعاؤں اور نیک تمناؤں کے قدردان اور طلبگار ہیں۔‘
اس سے پہلے اتوار کی صبح اسلام آباد اور جڑواں شہر راولپنڈی کی انتظامیہ نے کہا تھا کہ دونوں شہروں میں پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کو داخلے کی اجازت دے دی گئی ہے جبکہ میٹرو سروس بھی بحال ہو گئی ہے۔
ڈی سی اسلام آباد کی جانب سے ایکس پر کی گئی پوسٹ میں بتایا گیا تھا کہ شہر میں ہر قسم کی پبلک اور گذز ٹرانسپورٹ کو داخل ہونے کی اجازت دے گی گئی ہے اور فیض آباد کے علاوہ تمام بس اڈے بھی کھول دیے گئے ہیں۔
بیان کے مطابق ’فیض آباد بس ٹرمینل کو تاحکمِ ثانی بند رکھا جائے گا۔‘
بیان کے مطابق اسلام آباد کی جانب سے ہائیکنگ ٹریلز کو بھی کھول دیا گیا ہے جبکہ دامن کوہ اور لیک ویو سمیت دوسرے پارک بھی عوام کے لیے کھول دیے گئے ہیں۔
اسی طرح ڈی سی راولپنڈی کی پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ شہر کے تمام داخلی اور خارجی راستے ہر قسم کی ٹریفک کھول دیے گئے ہیں اور اب پرائیویٹ، پبلک اور ہیوی گاڑیاں ان کے راستے اندر آ اور باہر جا سکیں گی۔
بیان میں یہ وضاحت بھی کی گئی ہے کہ ’پیر ودھائی اڈے کو تاحکمِ ثانی بند رکھا جائے گا۔‘
’ٹریفک کا رخ بدلا جا سکتا ہے‘، پولیس کی نئی ایڈوائزری
اسلام آباد پولیس کے ترجمان کی جانب سے اتوار کو جاری کی گئی ایڈوائزری میں بتایا گیا ہے کہ ایکسپریس اور سری نگر ہائی ویز پر سفر کرنے والی گاڑیوں کا رخ مختلف اوقات میں موڑا جا سکتا ہے، جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی متاثر ہو سکتی ہے۔
بیان میں شہریوں سے کہا گیا کہ اگر انہوں نے کہیں کسی مقررہ وقت پر پہنچنا ہو تو وہ اضافی وقت کا مارجن رکھتے ہوئے نکلیں۔
میٹرو بس سروس بھی بحال کر دی گئی ہے (فوٹو: اے پی پی)
جڑواں شہروں میں 19 اپریل کو دونوں شہروں کی انتظامیہ نے پبلک اور کسی بھی قسم کی ہیوی ٹریفک بند کرنے کا اعلان کیا گیا تھا جس کے بعد سات روز تک ٹریفک کا داخلہ بند رہا۔
پولیس کی جانب سے بندش کے دوران متبادل روٹس کے حوالے سے پلان بھی جاری کیا گیا تھا۔
خیال رہے اسلام آباد اور جڑواں شہر اسلام آباد میں امریکہ ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے ضمن میں خصوصی انتظامات کیے گئے تھے اور ایران کا وفد وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں اسلام پہنچ گیا تھا۔
اگرچہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنے نمائندے بھیجنے کا اعلان کیا گیا تھا تاہم اگلے روز انہوں نے یہ دورے کو ملتوی کرنے کا اعلان کیا تھا۔
پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے بات چیت کا یہ دوسرا دور منعقد نہیں ہو سکا اور ایران کا وفد سنیچر کی شام کو واپس چلا گیا تھا۔
10 اور 11 اپریل کو ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور کے وقت بھی شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ کو بند کر دیا گیا تھا تاہم راستوں کی بندش کے باوجود پرائیویٹ گاڑیوں کا دوسرے راستوں سے اسلام آباد میں آمد کا سلسلہ کسی حد تک جاری رہا تاہم اس بار اس سے سخت انتظامات دیکھنے میں آئے۔