پاکستان بطور مخلص سہولت کار کردار ادا کرنے کے لیے پُرعزم ہے: شہباز شریف کی ایرانی صدر سے گفتگو
پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔
اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کے دوسرے دور کو اس وقت منسوخ کر دیا گیا جب صدر ٹرمپ نے اپنے نمائندوں کی اسلام آباد روانگی منسوخ کردی۔
تاہم پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی جانب سے تنازعے کے حل میں مدد کے عزم کا اعادہ کیا۔
شہباز شریف نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’آج شام میرے بھائی، صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ موجودہ علاقائی صورت حال پر ایک گرم جوش اور تعمیری ٹیلی فونک گفتگو ہوئی۔
’میں نے ایران کی مسلسل شمولیت کو سراہا، جس میں اسلام آباد آنے والا اعلٰی سطح کا وفد بھی شامل ہے جس کی قیادت وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کر رہے تھے، جن سے آج پہلے ملاقات کا بھی موقع ملا۔‘
وزیراعظم نے مزید لکھا کہ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ دوست ممالک اور شراکت داروں کی حمایت سے پاکستان ایک ایمان دار اور مخلص سہولت کار کے طور پر اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پُرعزم ہے، اور خطے میں پائیدار امن اور دیرپا استحکام کے فروغ کے لیے مسلسل کام کرتا رہے گا۔
قبل ازیں سنیچر کی شام کو پاکستان کے دورے پر موجود ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے شہباز شریف سے ملاقات کی تھی جس میں دونوں ممالک کے تعلقات اور خطے کی موجودہ صورت حال پر بات چیت کی گئی۔
وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی اس ملاقات میں پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی موجود تھے۔
سرکاری بیان کے مطابق ملاقات میں خطے میں کشیدگی، امن و استحکام اور جاری سفارتی کوششوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
پاکستان سے روانگی کے بعد ایکس اکاؤنٹ میں جاری ایک بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ ’پاکستان کا دورہ نہایت مفید رہا، اور ہم اپنے خطے میں امن بحال کرنے کے لیے پاکستان کی نیک خدمات اور برادرانہ کوششوں کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ہم نے ایران کی اس پوزیشن کو شیئر کیا جس میں جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے ایک قابلِ عمل فریم ورک پیش کیا گیا ہے۔ ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا امریکہ واقعی سفارت کاری کے حوالے سے سنجیدہ ہے یا نہیں۔‘
