ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے پیر کے روز روس پہنچنے کے بعد مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار امریکہ کو قرار دیا ہے۔ یہ دورہ ایک متحرک سفارتی مہم کا حصہ ہے، جبکہ جنگ میں ملوث فریقوں کے درمیان براہِ راست مذاکرات تعطل کا شکار دکھائی دے رہے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے یہ بات سینٹ پیٹرزبرگ میں روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات سے قبل کہی۔ اس سے پہلے وہ گزشتہ چند دنوں کے دوران اہم ثالث پاکستان کے دورے کے علاوہ عمان بھی جا چکے ہیں۔
ولادیمیر پوتن نے ایرانی وزیرِ خارجہ کو بتایا کہ ’ماسکو مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔‘
مزید پڑھیں
روسی سرکاری میڈیا کے مطابق پوتن نے کہا کہ ’ہم اپنی طرف سے ہر وہ قدم اٹھائیں گے جو آپ کے مفادات اور خطے کے تمام لوگوں کے مفادات کے مطابق ہو، تاکہ جلد از جلد امن قائم کیا جا سکے۔‘
پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے اب تک کے واحد اور ناکام مذاکراتی دور کی میزبانی کی ہے، اور عباس عراقچی کے دورۂ پاکستان سے ہفتہ وار چھٹیوں کے دوران نئے مذاکرات کی امید پیدا ہوئی تھی، لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا مجوزہ دورہ منسوخ کر دیا۔
عباس عراقچی نے پیر کے روز کہا کہ ’امریکی رویے اور حد سے زیادہ مطالبات کی وجہ سے پیش رفت کے باوجود گزشتہ مذاکرات اپنے اہداف حاصل نہ کر سکے۔‘

ایران کی فارس نیوز ایجنسی نے پسِ پردہ رابطوں کے جاری رہنے کے اشارے کے طور پر بتایا ہے کہ ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکہ کو تحریری پیغامات بھیجے ہیں، جن میں ریڈلائنز واضح کی گئی ہیں، جن میں جوہری معاملات اور آبنائے ہرمز شامل ہیں۔
تاہم فارس نیوز ایجنسی کے مطابق یہ پیغامات باضابطہ مذاکرات کا حصہ نہیں تھے۔
آبنائے ہرمز سے محفوظ آمدو رفت: ایک عالمی مسئلہ
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ بندی تاحال برقرار ہے، لیکن اس کے معاشی اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔
ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے، جس سے تیل، گیس اور کھاد کی ترسیل رک گئی ہے اور قیمتیں تیزی سے بڑھ گئی ہیں، جس سے ترقی پذیر ممالک میں غذائی قلت کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
اس کے جواب میں امریکہ نے آبنائے ہرمز اور اس سے باہر ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر دی ہے۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد ایندھن کی قیمتوں میں اضافے پر صدر ٹرمپ کو اندرونِ ملک دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ نومبر میں وسط مدتی انتخابات بھی متوقع ہیں۔ عوامی جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام میں یہ جنگ غیر مقبول ہو چکی ہے۔

عباس عراقچی کے عمان کے دورے کے دوران بھی آبنائے ہرمز کا معاملہ زیرِ بحث رہا، جو ایران کے سامنے اس آبی گزرگاہ کے دوسری جانب واقع ہے۔
عباس عراقچی نے سینٹ پیٹرز برگ میں کہا کہ ’آبنائے ہرمز سے محفوظ آمدورفت ایک اہم عالمی مسئلہ ہے۔ ظاہر ہے کہ اس آبنائے کے ساحلی ممالک ہونے کے ناتے ہمیں ایک دوسرے سے بات کرنی چاہیے تاکہ ہمارے مشترکہ مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔‘
روسی اور ایرانی سرکاری میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ عباس عراقچی روسی صدر پوتن سے ملاقات کریں گے، اور اس حوالے سے دونوں ممالک کے حکام کا حوالہ دیا گیا ہے۔
تاہم ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ وہ اپنی اس ناکہ بندی ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے، اور ان کے مطابق ہرمز پر کنٹرول اور اس حوالے سے امریکا پر دبائو برقرار رکھنا تہران کی حتمی حکمتِ عملی ہے۔
پیر کے روز تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ دیکھا گیا، تاہم کسی ممکنہ معاہدے کی امید نے اس اضافے کی رفتار کو محدود رکھا ہے۔












